امریکا اچانک جاپانی کرنسی ‘ین’ کیوں خرید رہا ہے؟

Calender Icon پیر 3 اگست 2026

عالمی معاشی منڈیوں میں ایک غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، امریکا نے ایک دہائی سے بھی زائد عرصے کے بعد جاپانی کرنسی ’ین‘ (Yen)اچانک خریدنی شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں چالیس سال کی کم ترین سطح پر آگیا تھا، جس کے باعث جاپان شدید معاشی مشکلات کا شکار تھا۔ امریکی اقدام کے فوراً بعد عالمی منڈی میں جاپانی ین کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا اور یہ تین ماہ کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ گیا۔

جب دنیا کی بڑی معیشتیں یا مرکزی بینک کسی ملک کی گرتی ہوئی کرنسی کو مارکیٹ سے خریدنا شروع کرتے ہیں، تو یہ عمل معاشی زبان میں ’کرنسی انٹروینشن‘ یا ’مالیاتی مداخلت‘ کہلاتا ہے۔ یہ عمل بالکل عام مارکیٹ کے طلب اور رسد کے اصول کے تحت کام کرتا ہے۔ جب مارکیٹ میں کسی چیز کی خریداریاں بڑھ جاتی ہیں تو اس کی قیمت خود بخود اوپر جانے لگتی ہے۔ اسی طرح جب امریکی فیڈرل ریزرو یا دیگر ادارے ین کی بڑی مقدار خریدیں گے تو مارکیٹ میں ین کی طلب بڑھ جائے گی جس سے اس کی قدر مستحکم ہونے لگے گی۔

کسی بھی ملک کی کرنسی کا مسلسل گرنا اس کی پوری معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ جب جاپانی ین کی قدر کم ہوتی ہے تو جاپان کے لیے باہر سے تیل، گیس، خوراک اور دیگر ضروری سامان منگوانا بے حد مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس سے ملک کے اندر مہنگائی بڑھتی ہے جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں کی جیب پر پڑتا ہے۔ جب امریکا جیسا بڑا معاشی کھلاڑی جاپانی ین خرید کر اس کی قدر کو سہارا دیتا ہے تو اس سے جاپان میں درآمدات سستی ہونے لگتی ہیں اور مہنگائی کو بریک لگتی ہے۔

مزیدپڑھیں:جب کھانسی سے ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ شو میں لاکھوں پاؤنڈز کا فراڈ ہوا

اس اقدام کا ایک اور بڑا مقصد عالمی معاشی منڈیوں میں اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ فارن ایکسچینج مارکیٹ میں جب بین الاقوامی سرمایہ کار دیکھیں گے کہ امریکا اور جاپان مل کر ین کو بچانے کے لیے رقم لگا رہے ہیں تو ان کا اعتماد بحال ہوگا اور وہ بھی ڈر کے مارے اپنے پاس موجود ین کو سستے داموں بیچنا بند کر دیں گے۔ اس سے کرنسی کا گرنا رک جائے گا اور معیشت میں استحکام آئے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کے اس اقدام کی وضاحت کی تھی اور اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا مظہر قرار دیا تھا۔


صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جاپان کی کرنسی کمزور ہو رہی تھی اور انہیں تھوڑی مدد کی ضرورت تھی، اور ہم جاپان کی مدد کے لیے ہمیشہ موجود ہیں۔

امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ین کو سہارا دینا عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور اس سے امریکا کو بھی مالی فائد حاصل ہوگا۔

انہوں نے ارجنٹائن کو دیے گئے بیس ارب ڈالر کے امدادی پیکیج اور وینزویلا کے واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی مداخلت سے دیگر ممالک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔

مالیاتی اداروں کے مطابق نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک نے امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے یورو بیچ کر جاپانی ین خریدا ہے۔

اس حوالے سے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی ایک تصویر بھی منظر عام پر آئی جس میں ان کے پاس موجود نوٹ پیڈ پر باقاعدہ طور پر پانچ سے دس ارب ڈالر کے جاپانی ین خریدنے کی ہدایات درج تھیں۔


اسکاٹ بیسنٹ نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم جاپانی ین کی قدر میں غیر معمولی کمی کو درست کرنے کے لیے جاپان کے معاشی اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ آئندہ بھی مشترکہ مداخلت میں حصہ لینے سے بالکل نہیں ہچکچائے گا۔


جاپانی وزارت خزانہ نے بھی اس مشترکہ اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس مداخلت کا مقصد جاپانی ین کی قیمت میں ہونے والے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنا تھا۔

جاپانی حکام کے مطابق وہ واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدام کریں گے۔


اس خبر کی تصدیق ہوتے ہی ایشیائی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اچانک واضح کمی ریکارڈ کی گئی اور وہ 0.6 فیصد گر کر 156.50 ین کی سطح پر آ گیا۔

جاپانی کرنسی کی یہ خریداری سال 2011 کے بعد دونوں ممالک کی پہلی مشترکہ مالیاتی مداخلت ہے، جب جاپان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد ین کی قدر بہت زیادہ کم ہو گئی تھی اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے جی سیون ممالک نے مل کر اقدام کیا تھا۔

امریکا اور جاپان کی اس مشترکہ کارروائی کا بنیادی مقصد جاپانی ین کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور جاپانی سرکاری بانڈز کی فروخت کو روکنا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی کرنسی میں جاری یہ تاریخی گراوٹ عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی تھی اور اس کی وجہ سے امریکا میں ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح بڑھنے سے شدید دباؤ پیدا ہو رہا تھا۔ چنانچہ امریکا اور جاپان نے مل کر قدم اٹھایا تاکہ اس معاشی گراوٹ کے اثرات کو دوسرے ممالک اور عالمی منڈیوں میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔

تاہم ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ صرف کرنسی خریدنے سے ین کو مستقل سہارا ملنا مشکل ہو سکتا ہے جب تک کہ بینک آف جاپان اپنی سود کی شرح میں اضافہ نہ کرے، جو اس وقت دیگر بڑے ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے۔