عالمی معاشی منڈیوں میں ایک غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، امریکا نے ایک دہائی سے بھی زائد عرصے کے بعد جاپانی کرنسی ’ین‘ (Yen)اچانک خریدنی شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں چالیس سال کی کم ترین سطح پر آگیا تھا، جس کے باعث جاپان شدید معاشی مشکلات کا شکار تھا۔ امریکی اقدام کے فوراً بعد عالمی منڈی میں جاپانی ین کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا اور یہ تین ماہ کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ گیا۔
جب دنیا کی بڑی معیشتیں یا مرکزی بینک کسی ملک کی گرتی ہوئی کرنسی کو مارکیٹ سے خریدنا شروع کرتے ہیں، تو یہ عمل معاشی زبان میں ’کرنسی انٹروینشن‘ یا ’مالیاتی مداخلت‘ کہلاتا ہے۔ یہ عمل بالکل عام مارکیٹ کے طلب اور رسد کے اصول کے تحت کام کرتا ہے۔ جب مارکیٹ میں کسی چیز کی خریداریاں بڑھ جاتی ہیں تو اس کی قیمت خود بخود اوپر جانے لگتی ہے۔ اسی طرح جب امریکی فیڈرل ریزرو یا دیگر ادارے ین کی بڑی مقدار خریدیں گے تو مارکیٹ میں ین کی طلب بڑھ جائے گی جس سے اس کی قدر مستحکم ہونے لگے گی۔
کسی بھی ملک کی کرنسی کا مسلسل گرنا اس کی پوری معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ جب جاپانی ین کی قدر کم ہوتی ہے تو جاپان کے لیے باہر سے تیل، گیس، خوراک اور دیگر ضروری سامان منگوانا بے حد مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس سے ملک کے اندر مہنگائی بڑھتی ہے جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں کی جیب پر پڑتا ہے۔ جب امریکا جیسا بڑا معاشی کھلاڑی جاپانی ین خرید کر اس کی قدر کو سہارا دیتا ہے تو اس سے جاپان میں درآمدات سستی ہونے لگتی ہیں اور مہنگائی کو بریک لگتی ہے۔
مزیدپڑھیں:جب کھانسی سے ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ شو میں لاکھوں پاؤنڈز کا فراڈ ہوا
اس اقدام کا ایک اور بڑا مقصد عالمی معاشی منڈیوں میں اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ فارن ایکسچینج مارکیٹ میں جب بین الاقوامی سرمایہ کار دیکھیں گے کہ امریکا اور جاپان مل کر ین کو بچانے کے لیے رقم لگا رہے ہیں تو ان کا اعتماد بحال ہوگا اور وہ بھی ڈر کے مارے اپنے پاس موجود ین کو سستے داموں بیچنا بند کر دیں گے۔ اس سے کرنسی کا گرنا رک جائے گا اور معیشت میں استحکام آئے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا کے اس اقدام کی وضاحت کی تھی اور اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا مظہر قرار دیا تھا۔
🇺🇸🇯🇵 Trump’s team just jumped in with Japan to help steady the yen.
They’re working together on the currency stuff, and Bessent’s making it clear the U.S. has Japan’s back on their economic moves and the whole alliance.
Currency help like this keeps things calmer overall.…
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 3, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جاپان کی کرنسی کمزور ہو رہی تھی اور انہیں تھوڑی مدد کی ضرورت تھی، اور ہم جاپان کی مدد کے لیے ہمیشہ موجود ہیں۔
امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ین کو سہارا دینا عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور اس سے امریکا کو بھی مالی فائد حاصل ہوگا۔
انہوں نے ارجنٹائن کو دیے گئے بیس ارب ڈالر کے امدادی پیکیج اور وینزویلا کے واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی مداخلت سے دیگر ممالک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
مالیاتی اداروں کے مطابق نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک نے امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے یورو بیچ کر جاپانی ین خریدا ہے۔
اس حوالے سے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی ایک تصویر بھی منظر عام پر آئی جس میں ان کے پاس موجود نوٹ پیڈ پر باقاعدہ طور پر پانچ سے دس ارب ڈالر کے جاپانی ین خریدنے کی ہدایات درج تھیں۔
🇺🇸🇯🇵 The Note in Bessent’s Hand: Why America Just Bet Billions on Japan
A single sheet of paper, caught by a Reuters lens behind Treasury Secretary Scott Bessent at the July 31 cabinet meeting, said everything Tokyo needed to hear. “To Do: Buy Japanese Yen (JPY), $5–10 bil.” It… pic.twitter.com/KDsms37wH6
— Aric Chen (@aricchen) August 2, 2026
اسکاٹ بیسنٹ نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم جاپانی ین کی قدر میں غیر معمولی کمی کو درست کرنے کے لیے جاپان کے معاشی اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ آئندہ بھی مشترکہ مداخلت میں حصہ لینے سے بالکل نہیں ہچکچائے گا۔
The Trump Administration delivers for America’s trusted partners. Economic security is national security. And the U.S.-Japan alliance is built on both.
Friday’s coordinated foreign exchange actions countered disorderly yen movements.
Treasury remains attentive and in close…
— Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) August 2, 2026
جاپانی وزارت خزانہ نے بھی اس مشترکہ اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس مداخلت کا مقصد جاپانی ین کی قیمت میں ہونے والے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنا تھا۔
جاپانی حکام کے مطابق وہ واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدام کریں گے۔
On Friday 31st, July (U.S. Eastern Time), Japan’s Ministry of Finance purchased the Japanese yen in coordination with the U.S. Department of the Treasury.
This joint action was taken pursuant to the U.S.-Japan Finance Ministers’ Joint Statement issued in September 2025 and…
— 財務省 (@MOF_Japan) August 2, 2026
اس خبر کی تصدیق ہوتے ہی ایشیائی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اچانک واضح کمی ریکارڈ کی گئی اور وہ 0.6 فیصد گر کر 156.50 ین کی سطح پر آ گیا۔
جاپانی کرنسی کی یہ خریداری سال 2011 کے بعد دونوں ممالک کی پہلی مشترکہ مالیاتی مداخلت ہے، جب جاپان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد ین کی قدر بہت زیادہ کم ہو گئی تھی اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے جی سیون ممالک نے مل کر اقدام کیا تھا۔
امریکا اور جاپان کی اس مشترکہ کارروائی کا بنیادی مقصد جاپانی ین کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور جاپانی سرکاری بانڈز کی فروخت کو روکنا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی کرنسی میں جاری یہ تاریخی گراوٹ عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی تھی اور اس کی وجہ سے امریکا میں ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح بڑھنے سے شدید دباؤ پیدا ہو رہا تھا۔ چنانچہ امریکا اور جاپان نے مل کر قدم اٹھایا تاکہ اس معاشی گراوٹ کے اثرات کو دوسرے ممالک اور عالمی منڈیوں میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔
تاہم ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ صرف کرنسی خریدنے سے ین کو مستقل سہارا ملنا مشکل ہو سکتا ہے جب تک کہ بینک آف جاپان اپنی سود کی شرح میں اضافہ نہ کرے، جو اس وقت دیگر بڑے ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے۔













پیر 3 اگست 2026 

