میر رضا علی کیس میں نیا موڑ، 14 اہم سوالات اٹھ گئے! کیا قبر کشائی ہوگی؟

Calender Icon جمعرات 6 اگست 2026

نواجوان تاجر میر علی رضا(Mir Ali Raza) کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے پولیس سرجن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 اہم خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیے گئے۔

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے، اور پولیس سرجن کراچی نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سنگین اعتراضات اٹھاتے ہوئے 14 اہم خامیوں کی نشاندہی کردی۔

پولیس سرجن کراچی نے ایس ایس پی ایسٹ کو ارسال کیے گئے مراسلے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں ایسے کئی اہم فرانزک تقاضے پورے نہیں کیے گئے جن سے تفتیش متاثر ہو سکتی ہے۔

1۔ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے

2۔ گن شاٹ ریزیڈیو کے لیے ہاتھوں کے سواب حاصل نہیں کیے گئے

3۔ گولی کے داخل ہونے والے زخم پر موجود بلیکنگ کا کیمیکل تجزیے کے لیے بھی نمونہ نہیں لیا گیا

4۔ سر کے مکمل معائنے کے لیے جلد نہیں ہٹائی گئی

5۔ کھوپڑی کھول کر اندرونی معائنہ کیا گیا

6۔ گردن کا اندرونی معائنہ بھی نہیں کیا گیا

7۔ زخموں کی پیمائش کے لیے اسکیل استعمال نہیں کیا گیا

مزیدپڑھیں:سپریم لیڈر سے رابطہ کرنا فی الحال بہت مشکل ہے، مسعود پزشکیان

8۔ کرائم سین پر لاش کی مناسب تصاویر نہیں لی گئیں

9۔ گولی کے داخل اور خارج ہونے والے زخموں کی درست پوزیشن بھی واضح نہیں کی گئی

10۔ رپورٹ میں داخل ہونے والے زخم کا سائز خارج ہونے والے زخم سے بڑا درج کیا گیا

11۔ کپڑوں پر موجود نشانات اور ریشوں کی سمت کا ذکر نہیں کیا گیا

12۔ جسم کے اندر گولی کے راستے اور ٹریجیکٹری کی بھی وضاحت موجود نہیں

13۔ جسم میں گلنے سڑنے کے مراحل کی مکمل تفصیل شامل نہیں کی گئی

14۔ چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود ڈی این اے سیمپل بھی حاصل نہیں کیا گیا

پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ جوابات سے زیادہ سوالات پیدا کرتی ہے۔

مراسلے میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام اعتراضات کا سائنسی اور قانونی بنیادوں پر جواب دیا جائے، تسلی بخش وضاحت نہ ملے تو قبر کشائی کر کے دوبارہ معائنہ کیا جائے۔