اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ(Islamabad High Court) میں جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ میں بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھے جانے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے ساتھ کوئی امتیازی یا غیر مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا اور وہ جیل میں قانون کے مطابق سزا کاٹ رہی ہیں۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے کسی بھی جیل نظام میں اب قید تنہائی کا کوئی وجود نہیں ہے اور عدالتیں بھی طویل عرصے سے ایسی کوئی سزا نہیں دے رہیں۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے بشریٰ بی بی کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ اضافی انتظامات کیے گئے ہیں، اور عام خواتین قیدیوں کو ان کی رہائش گاہ تک رسائی نہیں دی جاتی تاکہ ان کی حفاظت متاثر نہ ہو۔
بشریٰ بی بی کو جیل کے اس احاطے میں آزادانہ نقل و حرکت کی مکمل آزادی حاصل ہے جس میں ایک بڑا کمرہ، الگ صحن اور علیحدہ باورچی خانہ شامل ہے۔ وہ دن بھر اپنی مرضی کے مطابق گھوم پھر سکتی ہیں جبکہ شام کو قواعد کے مطابق کمرہ بند کیا جاتا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمان کا بڑا سرپرائز: 14 دن کا سیاحتی ویزا بالکل مفت، کون اہل ہے؟
رپورٹ کے مطابق جیل کی خاتون میڈیکل آفیسر روزانہ کم از کم دو مرتبہ ان کے کمرے میں جا کر معائنہ کرتی ہیں، جن میں بلڈ پریشر اور دیگر ضروری طبی علامات کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر خصوصی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کی نگرانی کے لیے خواتین جیل افسران اور عملہ تعینات ہے، اور ان کے لیے دو خواتین وارڈر ہر وقت موجود رہتی ہیں جو مقررہ مینو کے مطابق تین وقت کا کھانا تیار کرتی ہیں اور روزمرہ ضروریات کا خیال رکھتی ہیں۔ انہیں قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی سہولت بھی حاصل ہے۔
جیل مینوئل کے مطابق بشریٰ بی بی کو ہر منگل کے روز اپنے شوہر (بانی پی ٹی آئی) سے ملاقات کی باقاعدہ اجازت دی جاتی ہے۔
جیل حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھنے کے اعتراضات محض مفروضوں پر مبنی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ لہذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان کی بیٹی کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جائے۔













جمعرات 6 اگست 2026 

