دفاع سے آگے، کیا مکہ معاہدہ پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتا ہے؟

Calender Icon ہفتہ 8 اگست 2026

مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے(Defence Deal) کو ایک اہم سکیورٹی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے سب سے بڑے ثمرات عسکری میدان کے بجائے اقتصادی شعبے میں سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی بحالی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور توانائی کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، اس معاہدے سے یہ توقعات وابستہ ہو گئی ہیں کہ اسٹریٹجک تعاون میں اضافہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، تجارت میں وسعت اور صنعتی اشتراک کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔

اس شراکت داری کی معاشی صلاحیت غیر معمولی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مجموعی معیشت کا حجم تین کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کرتا ہے۔ ترکیہ کی معیشت تقریباً 1.4 کھرب ڈالر، سعودی عرب کی 1.28 کھرب ڈالر جبکہ پاکستان کی معیشت تقریباً 410 سے 420 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔

تینوں ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 38 کروڑ افراد پر مشتمل ہے، جو خلیج، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو باہم جوڑنے والی ایک وسیع منڈی تشکیل دیتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت میں سہولت، سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کو بھی فروغ دیا جائے تو یہ بلاک علاقائی اقتصادی انضمام کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔اگرچہ تینوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے قریبی سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، لیکن باہمی تجارتی روابط اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہیں۔

مزیدپڑھیں:پاکستان، سعودیہ، ترکیہ نے امّت کو پلیٹ فارم مہیا کردیا، خواجہ آصف

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت صرف 1.3 سے 1.5 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی تجارت 8.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جسے دونوں حکومتیں مستقبل قریب میں 10 ارب ڈالر اور طویل مدت میں 30 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔اسٹریٹجک تعاون کے اقتصادی اثرات پہلے ہی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔