ضلع چترال (Chitral)میں سیلابی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، گہرت گول کے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو شدید مشکلات اور ممکنہ بڑے نقصان کا سامنا ہے۔
گہرت گول میں ملبہ جمع ہونے کے باعث دریائے چترال کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں دریا نے عارضی جھیل اور ڈیم کی شکل اختیار کرلی ہے۔
پانی کی سطح بلند ہونے سے دریائے چترال کے کنارے آباد دیہات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جبکہ بیری نثار، گہرت اور دیگر علاقوں میں دریائی کٹاؤ میں تیزی آگئی ہے۔ سیلابی پانی کے باعث زرعی اراضی مسلسل دریا برد ہو رہی ہے اور متعدد رہائشی مکانات بھی دریائی کٹاؤ کی زد میں آگئے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گہرت گول کے مقام پر عارضی ڈیم کے باعث پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا خدشہ ہے، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ نقصان سے قبل ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے دریائے چترال کا قدرتی بہاؤ فوری بحال کیا جائے۔
مزیدپڑھیں:موبائل پیکجز کے موازنے کیلئے نیا پورٹل متعارف کرا دیا دیا گیا
متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے دورے جاری ہیں، تاہم عملی اقدامات نہ ہونے پر مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دریا کا بہاؤ جلد بحال نہ کیا گیا تو مزید زرعی زمینیں اور مکانات دریا برد ہونے کا خدشہ ہے۔













اتوار 9 اگست 2026 

