آزاد کشمیر کے عوام نے ووٹ کی طاقت سے انتشار کو شکست دی، مریم نواز

Calender Icon ہفتہ 15 اگست 2026

مری: مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو کامیابی ملی، آزاد کشمیر کے عوام نے مشکل حالات میں بہترین فیصلہ کیا اور دنگا فساد، قتل و غارت، خون خرابہ، احتجاج اور ہڑتالوں کو ووٹ کی طاقت سے شکست دی۔

مری میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ شرپسند عناصر پاکستان اور آزاد کشمیر کو لڑانا چاہتے تھے، ان کے لیے یہ شکستِ فاش ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو معلوم ہے کہ انہیں کیا چاہیے اور وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وفاق اور پنجاب میں کیا کام ہورہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے تعمیر و ترقی کو ووٹ دیا ہے، الیکشن بڑا ٹیسٹ نہیں تھا بلکہ اب ہمارا ٹیسٹ شروع ہوگیا ہے۔ حکومت بنتے ہی پہلے دن سے کام کرنا ہوگا، پروٹوکول اور دعوتوں سے لطف اندوز نہیں ہونا بلکہ آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ جدید پاکستان کا ایک بانی ہے اور اس کا نام نواز شریف ہے۔ مسلم لیگ ن کے خلاف جتنی سازشیں ہوتی آئی ہیں شاید ہی کسی اور جماعت کے خلاف ہوئی ہوں، ہمارے قائدین کو بہت مشکل مراحل سے گزرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ 2021 کے انتخابات میں جب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، مسلم لیگ ن کو 17 جبکہ پی ٹی آئی کو 3 نشستیں ملیں، لیکن نتائج کو الٹ دیا گیا۔ الحمدللہ مسلم لیگ ن نے اپنی اکثریت واپس حاصل کرلی ہے۔ جو لوگ کہتے تھے کہ ن لیگ کمزور ہوگئی اور ختم ہونے والی ہے، انہیں بہترین جواب مل گیا۔ کسی ایک جماعت کا مستقبل روشن ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی، لیکن افسوس ہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے جھوٹے الزامات عائد کیے۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں جیتی تو دھاندلی کی بات نہیں کی، لیکن آزاد کشمیر میں ہار گئی تو دھاندلی کا الزام لگادیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ لگتا ہے آزاد کشمیر کے لوگوں نے انتخابی تقاریر غور سے سنیں اور منشور کا جائزہ لیا۔ جن کے پاس آزاد کشمیر میں دینے کے لیے کچھ نہیں تھا، عوام نے انہیں مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین سڑکوں کا وعدہ اس لیے نہیں کرسکتے کیونکہ 17 سال سے جہاں ان کی حکومت ہے وہاں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ وہاں سے لوگ پنجاب آتے ہیں تو پنجاب میں ہونے والی ترقی کی تعریف کرتے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ بسوں کا وعدہ بھی وہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کو بسیں نہیں دیں اور اگر دی ہیں تو وہ بھی ٹوٹی ہوئی ہیں۔ صفائی کے نظام کا وعدہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ ان کے پورے صوبے میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جوش میں تقریر کرتے ہوئے وہ بھول گئے کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور انتظامیہ ان کی اپنی تھی۔ آزاد کشمیر میں صدر، وزیراعظم، پولیس، انتظامیہ اور عملہ انہی کا تھا، اس لیے دھاندلی کے الزامات کسی اور پر لگانے سے پہلے تھوڑا منطق کا خیال رکھنا چاہیے۔

مریم نواز نے مسلم لیگ ن کی کامیابی کو آزاد کشمیر کے عوام کے فیصلے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے انتشار کے بجائے ترقی، تعمیر اور بہتر مستقبل کو ترجیح دی ہے۔