ٹرمپ کے تیسری بار امریکی صدر بننے کا اشارہ: کیا پروفیسر جیانگ کی پیش گوئی سچ ہونے جا رہی ہے؟

Calender Icon منگل 18 اگست 2026

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump)نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک نئی تصویر شیئر کر کے ملکی سیاست میں ایک بار پھر 2028 کے صدارتی انتخابات کی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تصویر میں ٹرمپ ایک ٹوپی پہنے نظر آ رہے ہیں جس پر ”ٹرمپ 2028“ لکھا ہوا ہے، اور اس کے ساتھ انہوں نے پیغام لکھا کہ ہم جیتنے جا رہے ہیں۔

یہ پوسٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ہی انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ امریکی آئین ان کے دوبارہ انتخاب میں بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن ٹرمپ کی اس پوسٹ نے سیاسی حلقوں میں یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا ٹرمپ محض اپنے مخالفین کو پریشان کر رہے ہیں یا واقعی تیسری بار صدر بننے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

اس صورتحال کے بعد چینی نژاد کینیڈین پروفیسر جیانگ شیوشن کی اس پیش گوئی کو ایک بار پھر اہمیت مل گئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ کسی نہ کسی طرح تیسری بار صدارت کا عہدہ حاصل کر لیں گے۔

اگرچہ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کسی بھی شخص کو دو بار سے زیادہ صدر منتخب ہونے سے روکتی ہے، لیکن اس ترمیم کے کچھ قانونی پہلوؤں پر سیاسی اور قانونی ماہرین کی مختلف آرائیں موجود ہیں۔

ٹرمپ نے حال ہی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے دوبارہ الیکشن لڑنے کی خواہشہے، لیکن قانون اس کے خلاف بہت سخت ہے۔ اس بیان کے باوجود انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ٹوپی والی تصویر لگا کر اس بحث کو پھر سے ہوا دے دی ہے۔ امریکی آئین کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کوئی بھی فرد دو سے زیادہ بار صدارتی انتخاب نہیں جیت سکتا۔

دوسری جانب پروفیسر جیانگ نے بھارتی یوٹیوبر راج شمانی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس قانونی باریکی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں یہ تو لکھا ہے کہ کوئی شخص دو بار سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہو سکتا، لیکن یہ واضح نہیں کہ کیا ایک دو بار منتخب شدہ صدر نائب صدر کا انتخاب لڑ سکتا ہے یا نہیں۔

مزیدپڑھیں:’صرف دستاویزی فلمیں بنانے سے ناکامی کامیابی میں نہیں بدل سکتی‘: آئی ایس پی آر کا بھارتی پروپیگنڈے پر کرارا جواب

پروفیسر جیانگ نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں ایسا کچھ درج نہیں ہے جو کسی سابق صدر کو نائب صدر کا انتخاب لڑنے سے روکے، اور اگر بعد میں صدر اپنے عہدے سے استعفادے دے تو نائب صدر خود بخود صدر بن جاتا ہے۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق 12ویں ترمیم کے تحت جو شخص صدر بننے کا اہل نہیں، وہ نائب صدر بھی نہیں بن سکتا۔ اس لیے اس نقطے کو آئینی راستہ ماننے کے بجائے محض ایک نظریاتی بحث قرار دیا جا رہا ہے۔

پروفیسر جیانگ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کی یہ پیش گوئی انتہائی غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی امید کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو اس کے نتیجے میں شدید سیاسی بحران اور اندرونی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں ٹرمپ کی تازہ ترین پوسٹ کو رسمی طور پر انتخاب لڑنے کا اعلان نہیں سمجھا جا رہا، اور نہ ہی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے آئین سے بچنے کا کوئی قانونی راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔ تاہم، اس پوسٹ نے 2028 کے صدارتی انتخابات سے متعلق سسپنس کو برقرار رکھا ہے۔