امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی وائٹ ہاؤس ریپڈ رسپانس ٹیم نے سی این این کی نامہ نگار کرسٹن ہولمز کی جانب سے سینیٹر جان اوسوف کا حوالہ دے کر پوچھے گئے ایک تلخ سوال پر سخت برہم ہوتے ہوئے ان کے خلاف شدید الفاظ استعمال کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران، کرسٹن ہولمز نے صدر ٹرمپ سے سینیٹر جان اوسوف کے اس بیان پر ردعمل مانگا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے ’بال روم بنانے اور اپنے عملے کی رکن ناٹلی ہارپ کے ساتھ سفر کرنے‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سوال پر ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے سینیٹر اوسوف کو ’پی وی ہرمن‘ (ایک مزاحیہ کردار) قرار دیا۔
اس واقعے کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کی ‘ریپڈ رسپانس 47’ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ (سابقہ ٹویٹر) سے رپورٹر کرسٹن ہولمز کو نشانہ بنایا گیا۔ ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ پر لکھا گیا ’کرسٹن ہولمز اپنے مبینہ شعبے کے لیے ایک رسوائی اور شرمناک دھبہ ہیں۔ امریکی صدر اوول آفس میں ایک ہیرو لائف گارڈ کی میزبانی کر رہے ہیں اور وہ صدر کے عملے پر گھٹیا حملہ کرنے کے لیے اس موقع کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ایسے لوگ اخلاقیات کی پست ترین سطح پر ہیں۔‘
ایک اور پوسٹ میں لکھا گیا ’کسی دن آپ کے بچے آپ کا یہ گھناؤنا اور غیر انسانی سوال دیکھیں گے اور ایک والد/والدہ کو اس قدر بے حس اور کینہ پرور دیکھ کر شرمندہ اور بددل ہوں گے۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔‘
دوسری طرف اوول آفس میں ملاقات کے دوران خود صدر ٹرمپ نے بھی کرسٹن ہولمز پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ اس وقت 16 سالہ رائڈر ولیمز کی میزبانی کر رہے تھے، جس نے 10 سالہ بچے نتھانیئل رائے کو خطرناک لہروں سے بچا کر شہرت حاصل کی تھی۔ جب ہولمز نے ایک اور سوال پوچھنے کی کوشش کی تو ٹرمپ نے بار بار انہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کے صارفین کے لیے نئی ہدایات جاری
ٹرمپ نے اپنے قریب بیٹھے 10 سالہ بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صحافی سے کہا ’آپ اس معصوم بچے کے سامنے انتہائی بدتمیزی کر رہی ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ بدتمیزی ہے؟ یہ بچہ بھی یہ بات سمجھتا ہے۔‘
اس کے بعد ٹرمپ نے پوچھا ’آپ کس ادارے سے ہیں؟‘
ہولمز نے جواب دیا ’میں سی این این سے ہوں۔‘
جس پر ٹرمپ نے برہم ہوتے ہوئے کہا ’جعلی خبریں! آپ فیک نیوز ہیں۔ آپ ایک اونچی آواز میں بولنے والی اور ہنگامہ پرور خاتون ہیں۔ آپ فیک نیوز ہیں، خاموش رہیں! آپ ایک جعلی رپورٹر ہیں جو صرف جعلی خبریں نشر کرتی ہیں۔‘
سی این این کا سخت ردعمل
اس واقعے کے بعد سی این این نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کرسٹن ہولمز کا مکمل دفاع کیا۔
سی این این نے اپنے بیان میں کہا ‘کرسٹن ہولمز وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والی انتہائی محترم اور قابل صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ آج دوپہر انہوں نے امریکی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے صدر سے ایک اہم، متعلقہ اور مشکل سوال پوچھ کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کی۔‘
خبر رساں ادارے نے مزید کہا ’عوامی عہدیداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس رپورٹنگ کا جواب دیں یا اختلاف کریں جس سے وہ متفق نہیں ہیں، لیکن صرف سوال پوچھنے پر کسی صحافی پر ذاتی حملے کرنا صدارتی منصب کے شایانِ شان ہے اور نہ ہی یہ آزاد صحافت کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہم کرسٹن ہولمز کے ساتھ مکمل مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘













منگل 18 اگست 2026 

