مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کی اجازت، تاریخی حیثیتِ حال کو بڑا دھچکا

Calender Icon منگل 18 اگست 2026

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودی عبادت کے لیے دعائیہ کتابیں لے جانے اور اجتماعی دعائیں کرنے کی اجازت دے دی، جسے فلسطینی حکام اور اسلامی اوقاف سے وابستہ ذرائع نے مسجد کے تاریخی حیثیتِ حال (Status Quo) کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتوار کو اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے یہودی آبادکاروں کو یہودی دعائیہ کتابیں ساتھ لے جانے اور اجتماعی عبادت کی اجازت دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بعض افراد کی جانب سے ایسی سرگرمیاں انفرادی طور پر ہوتی رہی ہیں، تاہم انہیں سرکاری اجازت حاصل نہیں تھی۔

فلسطینی اسلامی اوقاف کے ایک ذریعے کے مطابق حالیہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ اس سے انفرادی اور غیر اعلانیہ عبادت ایک منظم اجتماعی عمل میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے بقول یہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی انتظام میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔

مسجد اقصیٰ کے تاریخی انتظام کے تحت پورا احاطہ اسلامی عبادت گاہ تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے انتظام، عبادت کے امور اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بیت المقدس کے اسلامی اوقاف کے پاس ہے۔ تاہم 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے فلسطینی حلقے اس انتظام میں بتدریج تبدیلیوں کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

اسلامی اوقاف کونسل سے وابستہ مصطفیٰ ابو سوی نے الزام عائد کیا کہ مسجد اقصیٰ میں دعائیہ کتابیں لانے سمیت دیگر اقدامات کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ تاریخی حیثیتِ حال کو تبدیل کرنے کی منظم کوشش کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں:ن لیگی رہنما و سینیٹرعابد شیرعلی دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کی رسائی اور اسلامی اوقاف کی سرگرمیوں پر بھی پابندیاں بڑھنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث مقدس مقام کی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔