چین کا سرکاری اداروں کے کمپیوٹرز سے ‘ونڈوز’ ہٹانے کا حکم

Calender Icon بدھ 19 اگست 2026

چین(China) نے امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کے لیے سرکاری اداروں کے کمپیوٹرز سے ونڈوز 10 ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔ سرکاری اداروں کو ونڈوز کے متبادل کے طور پر مقامی کمپنیوں کے تیار کردہ لینکس پر مبنی آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی نے بعض سرکاری اداروں کو مائیکروسافٹ کا ونڈوز سافٹ ویئر کمپیوٹرز سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس اقدام کی بنیادی وجہ ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق خدشات ہیں، تاہم کسی مخصوص سیکیورٹی خامی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

چینی سرکاری اداروں میں عام ونڈوز 10 کے بجائے ونڈوز کا ایک مخصوص ورژن استعمال کیا جاتا ہے، جسے چینی کمپنی سی اینڈ ایم انفارمیشن ٹیکنالوجیز (CMIT) نے تیار کیا ہے۔ یہ کمپنی 2016 میں مائیکروسافٹ اور سرکاری ملکیت رکھنے والے چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کے اشتراک سے قائم ہوئی تھی۔

اس مخصوص ونڈوز ورژن کو چین کی سیکیورٹی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا تھا اور اس میں چینی انکرپشن الگورتھم استعمال کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔

مائیکروسافٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی کو اس پراڈکٹ سے متعلق کسی سیکیورٹی واقعے کا علم نہیں، جبکہ اسے معمول کے مطابق سیکیورٹی اپ ڈیٹس فراہم کی جارہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ونڈوز کے اس مخصوص ورژن کو فروری 2027 میں ختم کیا جانا تھا، تاہم چین نے اسے مقررہ وقت سے کئی ماہ پہلے ہی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چینی حکومت سرکاری اداروں خصوصاً حساس نوعیت کے ڈیٹا سے متعلق شعبوں میں مقامی کمپنیوں کے تیار کردہ آپریٹنگ سسٹمز استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:معروف سابق فٹبالر روبرٹو کارلوس کے اسلام قبول کرنے کی خبریں، حقیقت کیا ہے؟

چین کی کائلن سافٹ ویئر اور ٹونگ شن سافٹ ویئر ٹیکنالوجی سمیت کئی کمپنیوں نے ونڈوز کے متبادل آپریٹنگ سسٹم تیار کیے ہیں۔ کائلن سافٹ ویئر کا کائلن او ایس لینکس پر مبنی ہے، جبکہ ٹونگ شن کا یونٹی او ایس بھی لینکس کے ڈیبین سسٹم پر تیار کیا گیا ہے۔

چین میں حساس شعبوں سے غیر ملکی ٹیکنالوجی کو ہٹانے کی کوشش کئی برس سے جاری ہے۔ حکومت نے 2019 میں سرکاری دفاتر میں غیر ملکی کمپیوٹرز کی جگہ مقامی کمپیوٹرز لانے کے لیے تین سالہ منصوبہ شروع کیا تھا، جبکہ 2022 میں مرکزی سرکاری اداروں اور سرکاری کمپنیوں کو غیر ملکی برانڈز کے کمپیوٹرز ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بعض حساس سرکاری اداروں میں ایپل کے آئی فونز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی جاچکی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی چین امریکی کمپنیوں پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی کمپنیوں، خصوصاً ہواوے اور کیمبرکون، کی ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہا ہے۔

تاہم عام چینی صارفین میں ونڈوز اب بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم ہے۔ جولائی 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں ڈیسک ٹاپ ویب ٹریفک کا تقریباً 87.64 فیصد ونڈوز سے منسلک تھا۔

چین کی جانب سے سرکاری اداروں میں ونڈوز کے استعمال میں کمی کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیجنگ حساس شعبوں میں امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔