عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے حکومت کی شوگر پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ پہلے چینی کو برآمد کر کے مصنوعی قلّت پیدا کی گئی، اس کے بعد ضرورت سے زیادہ چینی درآمد کر لی گئی اور پھر اس درآمد شدہ چینی کو برآمد کیا جارہا ہے جس کا سارا نقصان پاکستان کے عام شہریوں کو بھرنا پڑ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پچھلے سال حکومت نے ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جس سے چینی کی قیمت میں 50 روپے فی کلو اضافہ ہو گیا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس کے بعد حکومت نے ٹریڈنگ کارپوریشن سے کہہ کر 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرا لی، ٹی سی پی نے یہ چینی پاکستانی منڈی میں چینی کی قیمت سے 40 ڈالر فی ٹن مہنگی درآمد کی۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق حکومت نے صنعت کاروں، چین اسٹورز اور آڑھتیوں پر دباؤ ڈال کر یہ چینی مارکیٹ پرائس سے زیادہ قیمت پر بیچنے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں:ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ عدالتی احکامات نافذ یا عدالتیں بند ہوں گی، سہیل آفریدی
انہوں نے مزید کہاکہ اس کے باوجود ٹی سی پی اپنے ذخائر میں موجود ساری چینی نہ بیچ سکی اس لیے اب وہ یہی درآمد شدہ چینی ایک بار پھر بین الاقوامی منڈی میں برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا سارا نقصان پاکستانی شہریوں کو بھرنا پڑ رہا ہے۔













جمعہ 21 اگست 2026 

