سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی(Shahdi Khakan Abbasi) نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو میڈیکل چیک اپ کے لیے اسپتال لانا نہیں چاہتی تھی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے خصوصی گفتگو میں عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق عمران خان کا چیک اپ کیا گیا اور ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے اسپتال میں رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب کوئی بھی قیدی طبی معائنے کے لیے جیل سے اسپتال لایا جاتا ہے تو عموماً اس کی واپسی یا مزید قیام کا فیصلہ اسپتال کے ڈاکٹر ہی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق عمران خان کا مکمل چیک اپ کیا گیا، ڈاکٹروں نے ادویات دینے کے بعد انہیں واپس جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس میں بھی ان کی صحت کے حوالے سے کسی بڑی تشویش کا اظہار سامنے نہیں آیا۔
شاہد خاقان عباسی کے مطابق طویل عرصے کی تنہائی کے باوجود عمران خان کی جسمانی صحت کے حوالے سے کوئی بڑا تشویش ناک پہلو سامنے نہیں آیا، تاہم تنہائی کے جذباتی اور نفسیاتی اثرات ضرور مرتب ہوسکتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت عمران خان کو شوکت خانم کے بجائے پمز لائے جانے کی اطلاعات سے ایک ابہام پیدا ہوا، تاہم پمز کے ڈاکٹر بھی مستند ماہرین ہیں اور اگر ان کے مطابق مزید علاج یا اسپتال میں قیام کی ضرورت نہیں تھی تو پھر معاملہ وہیں ختم ہوجاتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے عمران خان کے جیل میں طویل قیام کے نفسیاتی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قیدِ تنہائی انسان کی فطرت کے خلاف ہے اور اس کے جسمانی و نفسیاتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:‘انگلینڈ نے ہمیں آؤٹ کلاس کیا’، پہلے ٹیسٹ میں شکست پر سلمان علی آغا کا اعتراف
ان کے مطابق عمران خان ماضی میں ایک عالمی معیار کے ایتھلیٹ رہے ہیں اور اب بھی جسمانی طور پر کافی فٹ ہیں، تاہم طویل تنہائی کے جذباتی اور نفسیاتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ سیاسی قیدیوں کو مناسب سہولیات ملنی چاہئیں اور ماضی میں عدالتوں کی جانب سے بھی ایسی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ ان کے بقول ملک میں سیاسی انتشار اور باہمی دشمنی کے خاتمے کے لیے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
نئے صوبوں سے متعلق سابق وزیر اعظم کی رائے
صوبوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر اپ سمجھتے ہیں کہ نظام ناکام ہوگیا ہے اور ہمیں اب ایک طریقہ بتایا گیا ہے کہ نئے صوبے بن جائیں ایڈمنسٹریٹو یونٹ بن جائے یا جو بھی ان کو کہا جائے۔
اس کام کے لیے پارلیمان میں بحث شروع کرا دیں تاکہ ملک کے عوام بھی اپنا حصہ ڈال سکیں ان کو پتہ ہو کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک ملک میں رول آف لا نہیں ہوگا تو اپ ایک ہزار صوبے بھی بنالیں یا جو مرضی کرلیں ملک کے معاملات بہتر نہیں ہوں گے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہی بنیاد ہے ہر معاملے کی اور عمران خان صاحب کے جو معاملات ہیں جو ملکی میں سیاسی انتشار ہے وہ بھی رول اف لا سے ہی درست ہوگا وہ نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں چلے گا اور پھر اپ یہ تعین کریں کہ خرابی ہے کیا؟
انہوں نے کہا کہ خرابی صرف صوبے بنانے سے دور نہیں ہوگی، آپ کو انتظامی نظام کو بدلنا پڑے گا۔ اپ کو جس طریقے سے صوبے چلتے ہیں اس کو بدلنا پڑے گا کیونکہ اج صوبے تو ایک بادشاہت کی زندہ مثال بنے ہوئے ہیں۔













ہفتہ 22 اگست 2026 

