آبنائے ہرمز(Strait of Hormuz) کے قریب امریکی فضائیہ کے ایک جدید طیارے کے اچانک غائب ہونے کی اطلاعات کے بعد خطے میں تناؤ اور تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے ڈیٹا پر مبنی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کا ’ای تھری بی سینٹری‘ طیارہ ہنگامی سگنل جاری کرنے کے فوراً بعد ریڈار سے غائب ہو گیا۔
اس طیارے کی آخری لوکیشن آبنائے ہرمز کے قریب ریکارڈ کی گئی تھی جہاں یہ 19 ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا، تاہم اب تک اس طیارے کو مار گرائے جانے یا تباہ ہونے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سوشل میڈیا اور بعض عالمی ذرائع ابلاغ پر اس واقعے کے بعد مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شاید اس طیارے کو ایران کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن امریکی سینٹرل کمانڈ نے کسی طیارے کی تباہی یا گرائے جانے کے دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
Did Iran Just SHOOT DOWN a U.S. E-3G Sentry?
US E-3G Sentry was transmitting an EMERGENCY CODE 7700 and then went DARK over Hormuz.
They cost OVER $270 MILLION and the U.S. only has 16 active E-3 Sentry (AWACS) aircrafts left. Iran already destroyed one. pic.twitter.com/2xmJaUWiOT
— Ryan Rozbiani (@RyanRozbiani) August 20, 2026
بوئنگ کمپنی کا تیار کردہ یہ طیارہ امریکی فضائیہ کا ایک انتہائی اہم اور قیمتی اثاثہ ہے جو ہوا میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکی طیارہ ایمرجنسی سگنل دینے کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب لاپتا
رپورٹ کے مطابق، طیارے نے ہنگامی حالت کا عالمگیر کوڈ 7700 بھیجا جس کے بعد اس نے 22 ہزار فٹ کی بلندی سے 17 ہزار 700 فٹ تک تیزی سے نیچے آنا شروع کیا۔ طیارے کے پائلٹس نے فوراً اپنا رخ تبدیل کرتے ہوئے اسے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز سے دور جزیرہ نما عرب کے اندرونی فضائی راستے کی طرف موڑ دیا۔
اسی دوران قطر میں امریکی فضائیہ کے اڈے سے روانہ ہونے والے تنصیباتی ائیر ری فیولنگ ٹینکرز بھی متحدہ عرب امارات کی فضائی حد میں طیارے کی مدد کے لیے پرواز کرتے دیکھے گئے۔
سوشل میڈیا پر پھیلے ان دعوؤں کو جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران نے اس کروڑوں ڈالر مالیت کے اڑتے ہوئے ریڈار کو مار گرایا ہے، دفاعی ماہرین نے مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہنگامی کوڈ 7700 کا مطلب انجن میں خرابی، آگ لگنا یا طبی ایمرجنسی ہو سکتا ہے نہ کہ لازمی طور پر کوئی عسکری حملہ۔ اس کے علاوہ ملٹری طیارے کسی بھی ہنگامی صورتحال یا سلامتی کے تحفظ کے لیے عام طور پر اپنے سگنل ٹرانسپونڈرز خود بند کر دیتے ہیں جس سے وہ سویلین ریڈار پر نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔













ہفتہ 22 اگست 2026 

