بلی کو مل گئی ’سرکاری نوکری‘، مسافر کا مذاق رنگ لے آیا

Calender Icon اتوار 23 اگست 2026

ممبئی کے ایک میٹرو اسٹیشن پر کئی ماہ سے گھومنے پھرنے اور مسافروں پر نظر رکھنے والی ایک نارنجی رنگ کی بلی اب باقاعدہ ایک دلچسپ عہدے کی مالک بن گئی ہے۔ بلی(Cat) کو ممبئی میٹرو کے ایک ادارے نے مذاقاً ’چیف فیلائن آفیسر‘ یعنی بلیوں کی چیف افسر کا اعزازی عہدہ دے دیا ہے۔

یہ منفرد واقعہ ممبئی کے گنڈاوالی میٹرو اسٹیشن پر پیش آیا، جہاں یہ بلی اکثر اسٹیشن کے داخلی راستے کے قریب بیٹھی یا ٹہلتی دکھائی دیتی ہے۔ بلی کی روزانہ کی آمد و رفت نے اسے وہاں آنے والے مسافروں کے لیے ایک مانوس چہرہ بنا دیا ہے۔

کہانی اس وقت دلچسپ ہوئی جب ایک مسافر سندیش سامنت نے اسٹیشن پر موجود بلی کی تصویر بنائی۔ انہوں نے یہ تصویر میٹرو آپریٹر مہا ممبئی میٹرو آپریشن کارپوریشن لمیٹڈ (ایم ایم ایم او سی ایل) کو بھیج کر مزاحیہ انداز میں مشورہ دیا کہ اس ’بغیر تنخواہ کے سیکیورٹی گارڈ‘ کو کوئی سرکاری عہدہ دے دینا چاہیے۔

انتظامیہ نے بھی اس مذاق کو خوش دلی سے قبول کیا اور بلی کو یہ پیارا سا عہدہ عطا کر دیا۔ میٹرو کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سب مذاق میں کیا گیا تھا لیکن یہ بلی واقعی اپنی ذمہ داری کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے اور ہمیشہ اپنے فرض پر مستعد نظر آتی ہے۔


میٹرو حکام کے مطابق بلیاں، کتے اور بعض اوقات بندر بھی میٹرو کے ٹھنڈے سیڑھیوں والے حصوں میں پناہ لینے آ جاتے ہیں۔ تاہم یہ جانور مستقل طور پر اسٹیشن میں نہیں رہتے بلکہ اپنی مرضی سے آتے جاتے رہتے ہیں۔

اگرچہ اس بلی کی عمر، نام اور جنس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی باضابطہ شناختی کارڈ یا ڈیسک موجود ہے، لیکن اس کی اس ”پنجہ آزمائی“ نے اسے ممبئی میٹرو کا سب سے مقبول چہرہ بنا دیا ہے۔

مزیدپڑھیں:اپنا گھر بنانا ہوا اب انتہائی آسان، بڑی خوشخبری آ گئی

۔
اس کی یہ انوکھی تقرری ہمیں برطانیہ کے ان سرکاری بلیوں کی یاد دلاتی ہے جو طویل عرصے سے اہم سرکاری عمارتوں میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

برطانیہ میں ’لَیری‘ نامی بلی 2011 سے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ’چیف ماؤزر‘ کے اعزازی عہدے پر رہی ہے، جہاں اس کا کام چوہوں کو قابو میں رکھنا تھا۔ اسی طرح ’پامرستن‘ نامی بلی بھی برطانیہ کے دفتر خارجہ میں چیف ماؤزر کے عہدے پر فائز رہی اور 2020 میں ریٹائر ہوئی۔

یوں ممبئی میٹرو کی یہ نارنجی بلی بھی اب اپنی ہی دنیا کی ایک چھوٹی سی مشہور شخصیت بن گئی ہے۔ اس کے پاس نہ شناختی کارڈ ہے، نہ تنخواہ اور نہ دفتر، لیکن گنڈاوالی میٹرو اسٹیشن پر اس کی ’نگرانی‘ کا چرچا ضرور ہو گیا ہے۔