میررضا قتل کیس: سندھ کابینہ سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی منظوری، ورثاء سے مسترد 

Calender Icon اتوار 23 اگست 2026

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری ہوگی، سندھ کابینہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی۔ جوڈیشل کمیشن قیام کے 30 دن میں اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات صوبائی حکومت کو پیش کرے گا۔

صوبائی حکومت نے میر رضا کے والدین کی درخواست پر فیصلہ کیا۔ سندھ حکومت نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے کمیشن کی سربراہی کیلئے حاضر سروس نامزد کرنے کی درخواست بھی کردی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کیس کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرے گا۔ کمیشن کو مزید تحقیقات اور فرانزک تجزیئے کی سفارش کا اختیار حاصل ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام سرکاری محکموں، اداروں اور افسران کو کمیشن سے مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب پولیس نے مقتول کےنام پررجسٹرڈ موبائل فون سم حاصل کرلی۔ سم کی ملکیت میررضا کی والدہ کے نام پر منتقل کردی گئی۔ میر رضا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی جائے گی۔

دوسری جانب میر رضا کے ورثا نے جوڈیشل کمیشن کو مسترد کردیا۔ بہن میر رضا کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نہیں جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا تھا، حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے سے پہلے رابطہ نہیں کیا۔ پولیس رپورٹ سے پہلے کیوں اور کس بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا گیا؟

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پولیس کل مجسٹریٹ کے سامنے تفتیشی رپورٹ پیش کرے گی، پولیس رپورٹ پیش کرنے سے پہلے سندھ حکومت نے عدالتی کمیشن کیوں تشکیل دیا، کیا سندھ حکومت پولیس تفتیش کے نتیجے سے واقف ہے اور اس سے اختلاف کرتی ہے؟۔

مزید پڑھیں:پاکستانی شہریت سے انکار پر سلمیٰ آغا کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا

جبران ناصر نے کہا کہ میررضا کے خاندان کو بتائے بغیر عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، انکوائری کے ٹی او آرز کو بھی تاحال عام نہیں کیا گیا، دیگر قانون نافذ کرنےوالےاداروں کو شامل کر کے جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟ پولیس افسران کے مجرمانہ رویے کی تحقیقات کیوں نہیں کی جا رہی ہیں؟ متاثرہ خاندان کل جے آئی ٹی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا۔