چینی سائنسدانوں نے ایک انقلابی اسٹیم سیل تھراپی کی کامیاب آزمائش کی ہے جس سے سنگین ہارٹ فیلیئر کو 90 فیصد تک ریورس کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔
اس حوالے سے ایک نئی طبی تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔نانجنگ ڈرم ٹاور ہاسپٹل کے محققین نے اس اسٹیم سیل تھراپی کی آزمائش کے لیے کلینیکل ٹرائل کیا تھا جس میں ہارٹ فیلیئر کے شکار 10 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔
ہارٹ فیلیئر ایسی طویل المعیاد بیماری ہے جس کے دوران جسم کے لیے دل مناسب مقدار میں خون پہنچانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ دل کام کرنا بند کر دیتا ہے، بس وہ پہلے کی طرح ٹھیک کام نہیں کر پاتا۔اس بیماری کا علاج نہیں بلکہ ادویات کی مدد سے اسے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔
اسی حوالے سے چینی سائنسدانوں نے اسٹیم سیل تھراپی کی آزمائش کی اور کلینیکل ٹرائل کے دوران 10 میں سے 9 مریضوں کے دل کے افعال بحال ہوگئے جبکہ دل کے نئے ٹشوز کی نشوونما ہونے لگی۔
اس ٹرائل کے دوران 10 مریضوں میں اسٹیم سیلز انجیکٹ کیے گئے تھے جن کو دل کے پٹھوں کے خلیات کی نشوونما میں مدد فراہم کرنے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔مریضوں کے جسم کے اندر موجود خلیات کو محققین نے ان سپشلائزڈ اسٹیم سیلز میں تبدیل کیا اور پھر انہیں جسم میں داخل کیا گیا۔
کلینیکل ٹرائل میں 10 مریضوں کے ایک گروپ کو بائی پاس سرجری کے عمل سے گزارا گیا۔تمام 20 مریضوں کے دل کے افعال کی مانیٹرنگ کارڈک امیجنگ، لیبارٹری ٹیسٹوں اور دیگر ذرائع سے کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ اسٹیم سیلز تھراپی والے گروپ میں شامل 10 میں سے 9 مریضوں کے دل کے افعال ایک سال کے دوران نمایاں حد تک بہتر ہوگئے۔دوسرے گروپ میں شامل مریضوں میں کوئی خاص بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
ان مریضوں کی ہارٹ فیلیئر کی علامات کی شدت بھی معمولی رہ گئی بلکہ کافی حد تک معمول پر آگئیں، سینے کی جکڑن اور سانس لینے میں مشکلات جیسی علامات نمایاں حد تک بہتر ہوئیں۔
ان مریضوں نے 6 منٹ کے واکنگ ٹیسٹ میں بھی دوسرے گروپ کے مقابلے میں دوگنا بہتر پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ اسٹیم تھراپی کے بعد مریضوں کے دل سے خون کی گردش زیادہ بہتر ہوگئی۔
مزید پڑھیں:ملک بھر میں آٹا مزید مہنگا، 20 کلو کا تھیلا 3093 روپے میں فروخت ہونے لگا
ان مریضوں میں اس نئے طریقہ علاج سے کوئی سنگین مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوئے۔البتہ محققین کا کہنا تھا کہ اس علاج کو تمام مریضوں کے لیے متعارف کرانے سے قبل مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس سے جڑے خطرات کا تعین کیا جاسکے۔













اتوار 23 اگست 2026 

