بنگلہ دیش نے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے (Mecca Joint Defence Agreement) میں شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کردیا ہے۔ بنگلہ دیش کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے کہا ہے کہ ڈھاکا نے اس دفاعی معاہدے کا حصہ بننے میں اپنی دلچسپی سے متعلق متعلقہ فریقوں کو آگاہ کردیا ہے اور اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کے نئے مقرر کردہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر (Humayun Kabir) نے پیر کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش نے مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ہمایوں کبیر نے کہا کہ بنگلہ دیش اب عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ ملک کی حیثیت سے اپنی سفارتی اہمیت مزید مستحکم کررہا ہے اور مغربی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کے مسلم ممالک میں بنگلہ دیش کی قیادت کو مختلف معاملات میں شراکت داری کے لیے مدعو کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر وزیراعظم طارق رحمان (Tarique Rahman) کی قیادت کو مختلف عالمی اور علاقائی فورمز پر اہمیت دی جارہی ہے، جس کے باعث بنگلہ دیش مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مواقع دیکھ رہا ہے۔
بنگلہ دیشی وزیر مملکت نے کہا کہ اگر مغربی ایشیا میں اسلامی ممالک کے درمیان کوئی سیکیورٹی یا دفاعی معاہدہ موجود ہو تو بنگلہ دیش کا اس میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لینا غیر معمولی بات نہیں۔ ان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کے معاملے کو فی الحال مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے 7 اگست 2026 کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ہونے والی سہ فریقی سربراہی کانفرنس کے موقع پر مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترک صدر رجب طیب اردوان (Recep Tayyip Erdogan)، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان (Mohammed bin Salman) اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف (Shehbaz Sharif) نے مکہ مکرمہ کے الصفاء محل (Al-Safa Palace) میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے دوران کیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور خطے سمیت وسیع تر سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
معاہدے کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ سمیت وسیع تر خطے میں سلامتی کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کے لیے ممکنہ اہمیت
بنگلہ دیش کی جانب سے معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے نئے امکانات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
اگر بنگلہ دیش کو مستقبل میں اس دفاعی تعاون کے دائرے میں شامل کیا جاتا ہے تو مکہ معاہدہ تین ممالک کے محدود دفاعی انتظام سے آگے بڑھ کر مزید وسیع مسلم ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے پلیٹ فارم میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
تاہم بنگلہ دیش کی جانب سے دلچسپی کا اظہار فی الحال باقاعدہ رکنیت یا معاہدے میں شمولیت کا اعلان نہیں ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق معاملہ زیر غور ہے اور اس حوالے سے آئندہ مشاورت کے بعد کوئی حتمی پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔
ہمایوں کبیر اس سے قبل وزیراعظم طارق رحمان کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور گزشتہ ہفتے انہیں بنگلہ دیش کا وزیر مملکت برائے خارجہ امور مقرر کیا گیا تھا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت خطے میں دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرسکتی ہے اور ڈھاکا کے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان سمیت مسلم دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی و سیکیورٹی تعلقات میں ایک نئی جہت پیدا کرسکتی ہے۔













منگل 25 اگست 2026 

