سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کہتا ہے صوبوں کے حقوق میں اضافہ ہو گا کمی نہیں ہو سکے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دینی مدرسے کی تعلیم کو جرم بنایا جا رہا ہے دینی مدرسے کو جرم بنایا جا رہا ہے اگر کوئی پاکستان میں اسلام کی بات کرتا ہے پتہ نہیں کن کن باتوں سے انہیں تعبیر کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں معاملہ طے ہے ہم کسی بھی اضطراب کا شکار نہیں ہیں ہمارا آئین ایک میثاق ملی ہے اب اس کا بھی احترام نہیں کیا جا رہا ہے، قانون سازیاں ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم پر خوف طاری کرکے قوم کو بلیک میل کیا جاتا ہے لیکن کبھی اناسی سالوں میں اسلام ہماری ترجیح نہیں رہا اسلامی قانون سازی ہماری ترجیح نہیں رہی، ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ہو جائے گا بعد میں کر لیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جعلی پارلیمنٹ کو وجود میں لا کر اپنی مرضی کی قانون سازیاں کی جا رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے دفاع کو ناگزیر سمجھتے ہیں، اس کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حکمرانوں کی نیتوں پر شک ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور اس میں صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں ان میں اضافہ ہو گا کمی نہیں ہو سکے گی، جب نئے صوبے بنیں گے اور موجودہ صوبے ٹوٹ جائیں گے تو نیا این ایف سی ایوارڈ آئے گا۔
یہ وہ چیزیں ہیں جس کے لیے ہم نے یہ تجویز ضرور دی کہ حزب اختلاف کو کم از کم ٹھیک طریقے سے حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا چاہیے اس کو پارلیمنٹ کے اندر منظم ہو جانا چاہیے۔
کچھ مشاورت ہونی چاہیے اور اسی حوالے سے ایک اعلامیہ بھی منظر عام پر جلد آ جائے گا جس پر ہم نے اسمبلی کے اندر مل کر کیسے کام کرنا ہے، قانون سازی پر کس طرح نگاہ رکھنی ہے، حکومتی اقدامات پر کیسے نظر رکھنی ہے اور کس طرح اسے کاؤنٹر کرنا ہے۔
یہ ساری چیزیں ہم اس میں زیر بحث لائے ہیں اور اس حد تک ایک ضرورت بھی تھی ورنہ باہمی انتشار کا یہ فائدہ اٹھا رہے تھے کہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہم آئین کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں۔
ہم نے آئین میں ایک نظام طے کیا ہوا ہے اب پارلیمنٹ کا کام ہے، اس طریقے سے آئین ختم ہو جائے گا اگر آئین ختم ہوگیا تو پھر آپ کو نئی آئین ساز اسمبلی بنانا پڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر جو ملک افراتفری کا شکار ہو گا آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے، ایک چیز سمٹی ہوئی ہے وہ جب بکھر جائے گی پھر اس کو سمیٹنا اس کے لیے بظاہر کوئی اسباب موجود نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں:اپنے والد کو جیل سے باہر لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے، قاسم خان
ہم ملک کی خیر خواہی کی بات کرتے ہیں ہم ملک کے اندر وہ نظام جو قرآن و سنت کی قانون سازی کے لیے بنا تھا، اس کو اس کے اصلی راستے پر لانا چاہتے ہیں۔













منگل 25 اگست 2026 

