سندھ بھر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور تباہ حال سیوریج نظام کے باعث مچھروں کی بہتات نے ملیریا کے کیسز میں تشویشناک اضافہ کردیا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے 23 اگست تک صوبے بھر میں ملیریا کے 90 ہزار 853 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
حیدرآباد ملیریا سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں 35 ہزار 94 کیسز رپورٹ ہوئے۔ لاڑکانہ میں 27 ہزار 57، شہید بینظیرآباد میں 10 ہزار 200 جبکہ سکھر میں 9 ہزار 949 کیسز سامنے آئے۔
محکمہ صحت کے مطابق میرپورخاص میں 7 ہزار 781 ملیریا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
کراچی میں ضلع ملیر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا، جہاں 249 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ضلع جنوبی میں 164، کورنگی میں 135، وسطی میں 36 اور شرقی میں 34 ملیریا کیسز سامنے آئے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق رواں سال ضلع کیماڑی میں ملیریا کے 14 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:نیٹ میٹرنگ کی زیر التوا درخواستوں کے حل کیلئے پاور ڈویژن کا عملی قدم
شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ بھر میں گندگی کے ڈھیروں اور سیوریج کے ناقص نظام کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہورہا ہے، جس سے ملیریا سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔













منگل 25 اگست 2026 

