پمز سانحہ: آتشزدگی کی ابتدائی وجہ سامنے آگئی

Calender Icon بدھ 26 اگست 2026

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے سانحے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی، جس میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں آتشزدگی کسی اے سی کمپریسر یا شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ این آئی سی یو میں ایک انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے بعد آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔ ابتدائی طور پر آگ کم تھی تاہم بعد میں تیزی سے پھیل گئی۔

رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں دھواں پیدا ہوا جو پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں داخل ہوا۔ ذرائع کے مطابق بچوں کی اموات کی ایک وجہ آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونا اور اس کے بعد جھلسنا بھی بتایا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نرسری والے فلور پر لیبر روم اور کینگرو روم بھی موجود ہیں، جبکہ نرسری کے علاوہ ماؤں کے لیے 8 کمرے بنائے گئے ہیں۔

ان 8 کمروں میں بھی نوزائیدہ بچے اور ان کی مائیں داخل تھیں، جو محفوظ رہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر آگ مزید پھیلتی تو ان ماؤں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا۔

سانحے کے دوران نرسری کے باہر لگا تالا کھولنے میں تاخیر کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسی ہنگامی صورتحال میں یہ واضح نہیں تھا کہ نرسری کا تالا کس شخص نے کھولنا ہے، جس کے باعث ابتدائی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔

ذرائع کے مطابق آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ میں واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل وجوہات اور ذمہ داری کا تعین تفصیلی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔