اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد جاں بحق بچی کے والد نے اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔
غم زدہ والد نے بتایا کہ اسپتال کے اندر مجموعی طور پر 55 بچے موجود تھے اور آتشزدگی کے باعث تمام بچے جل گئے۔ انہوں نے اسپتال کے انتظامات اور واقعے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر شدید سوالات اٹھائے۔
عینی شاہد کے مطابق آگ صبح تقریباً 6 بجے لگی، جس کے بعد اسپتال کے اندر شدید دھواں بھر گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے باہر کی جانب بھاگ رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد لوگوں نے اسپتال کے اندر جانے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی گارڈ نے انہیں روک دیا۔ بعد ازاں لواحقین زبردستی اندر داخل ہوئے اور اوپر پہنچے تو ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔
عینی شاہد کے مطابق نرسری کے دونوں گیٹ بند تھے اور انہیں کھولنے کی کوشش کی گئی، تاہم گیٹ نہیں کھلے۔ آگ پھیلنے کے بعد دھویں کے باعث اوپری منزل سے خواتین بھی تیزی سے نیچے کی جانب آنے لگیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے بچوں کو نرسری سے باہر نکالا تو کئی بچوں کے جسم بری طرح جھلس چکے تھے اور آگ سے جھلسنے کے باعث بچے سیاہ ہوچکے تھے۔
جاں بحق نومولود کے والد نے اسپتال کے انتظامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے اوپر وہ لعنت بھیجتے ہیں۔
واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔













بدھ 26 اگست 2026 

