پمز سانحہ: بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی، ابتدائی رپورٹ

Calender Icon بدھ 26 اگست 2026

اسلام آباد: پمز اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک سانحے کی اسپتال انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی، جس میں بچوں کی موت کی وجوہات سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں ایک انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے بعد آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی کے بعد دھواں پیدا ہوا، جو پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں داخل ہوا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچوں کی موت آکسیجن کی فراہمی بند ہونے اور جھلسنے کے باعث ہوئی۔

اسپتال انتظامیہ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے وقت آگ ابتدائی طور پر کم تھی، تاہم کچھ ہی دیر بعد اس نے تیزی سے پھیلنا شروع کردیا۔

واضح رہے کہ آج صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی۔

اسپتال حکام کے مطابق آتشزدگی کے وقت نرسری میں 16 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو بچایا جاسکا، جبکہ 15 بچے جاں بحق ہوگئے۔

آتشزدگی کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جن میں آگ لگنے کی وجہ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔