چین: سنٹرل ملٹری کمیشن میں بڑی تبدیلی، دو سینئرجرنیل عہدوں سے فارغ

Calender Icon جمعہ 28 اگست 2026

بیجنگ: چین نے ملک کے اعلیٰ ترین فوجی فیصلہ ساز ادارے سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) سے دو اعلیٰ عہدیداروں کو برطرف کردیا، جن کے خلاف رواں سال جنوری میں ’’قانون اور ضابطے کی سنگین خلاف ورزیوں‘‘ کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین ژانگ یوشیا کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ژانگ یوشیا کمیشن کے دو نائب چیئرمینوں میں زیادہ سینئر تھے اور انہیں چین کا سب سے اعلیٰ رینک رکھنے والا جنرل سمجھا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ سی ایم سی کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ لیو ژن لی کو بھی عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔ جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ جنگی منصوبہ بندی اور آپریشنل امور کی نگرانی کرتا ہے۔

دونوں فوجی افسران کے خلاف جنوری میں تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا۔ چینی وزارت دفاع نے اس وقت انہیں ’’نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘‘ کا مشتبہ قرار دیا تھا، جسے عام طور پر بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح سمجھا جاتا ہے۔

ژانگ یوشیا کی برطرفی کو خاص طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ صدر شی جن پنگ کے قریبی سمجھے جاتے تھے اور سینئر ترین فوجی عہدیداروں میں شامل تھے۔

چین کا سینٹرل ملٹری کمیشن ملک کا سب سے اہم فوجی فیصلہ ساز ادارہ ہے، جس کی سربراہی صدر شی جن پنگ کرتے ہیں۔ چین میں تکنیکی طور پر ریاستی اور کمیونسٹ پارٹی کے الگ الگ فوجی کمیشن موجود ہیں، تاہم عملی طور پر دونوں کو ایک ہی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔

دونوں افسران کی برطرفی کے بعد سی ایم سی، جس کے ارکان کی تعداد عموماً سات ہوتی ہے، میں اب صرف دو معروف ارکان باقی رہ گئے ہیں، جن میں صدر شی جن پنگ اور انسدادِ بدعنوانی کے سربراہ ژانگ شینگ من شامل ہیں۔

ژانگ یوشیا اور لیو ژن لی کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی اور ان کے خلاف عائد الزامات کی مزید تفصیلات بھی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

مزید پڑھیں:ن لیگ سیاست کو انکروچ کرکے فارم 47 پر بیٹھی ہوئی ہے، حافظ نعیم 

رواں سال تحقیقات کے اعلان کے وقت چینی فوج کے سرکاری اخبار نے دونوں افسران پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین، یعنی صدر شی جن پنگ، کی حتمی ذمہ داری کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔