سورج سے چلنے والی دنیا کی پہلی ایمبولینس کا کامیاب تجربہ

Calender Icon ہفتہ 29 اگست 2026

افریقہ(africa) میں صحت کی سہولتوں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ براعظم کے تقریباً ایک تہائی لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں طبی سہولت کے لیے دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے طبی مراکز میں بجلی کی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث وہاں ضروری طبی آلات چلانا اور بعض خدمات فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی مسئلے کے حل کے لیے نیدرلینڈز کے طلبہ نے ایک منفرد گاڑی تیار کی ہے جسے ’اسٹیلا جووا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس(Ambulance) ہے جس میں ایکسرے مشین، الٹراساؤنڈ اور ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے فریج سمیت مختلف طبی آلات موجود ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے کے مطابق اس گاڑی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی چھت پر سولر پینل نصب ہیں جو سفر کے دوران بھی توانائی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ جب گاڑی کھڑی ہوتی ہے تو اضافی سولر پینل باہر نکال کر پھیلا دیے جاتے ہیں، جس سے سورج کی روشنی حاصل کرنے کا رقبہ بڑھ جاتا ہے اور زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اسٹیلا جووا تیار کرنے والی سولر ٹیم آئندھوون میں 23 طلبہ شامل ہیں، جن کا تعلق آئندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور دو دیگر تعلیمی اداروں سے ہے۔ ٹیم اسے دنیا کی پہلی شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس قرار دیتی ہے۔ تاہم یہ روایتی ایمبولینس سے کچھ مختلف ہے، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد مریضوں کو اسپتال منتقل کرنا نہیں بلکہ طبی آلات اور انہیں چلانے کے لیے درکار توانائی دور دراز علاقوں تک پہنچانا ہے۔

طلبہ نے رواں ماہ کینیا میں غیر سرکاری تنظیم امریف ہیلتھ افریقہ کے تعاون سے اس گاڑی کا عملی تجربہ کیا۔ مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا اسٹیلا جووا طویل فاصلے اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرسکتی ہے اور دور دراز علاقوں میں پہنچنے کے بعد اپنے طبی آلات کو صرف شمسی توانائی سے چلا سکتی ہے یا نہیں۔

تجربے کے دوران گاڑی نے کینیا میں 800 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ اس میں جنوب مغربی کینیا کے علاقے ناراک میں واقع موسرو کے ایک صحت مرکز کا سفر بھی شامل تھا، جہاں بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے۔ وہاں پہنچنے کے لیے طلبہ کو کئی گھنٹوں تک گرد آلود اور گڑھوں سے بھری کچی سڑک پر سفر کرنا پڑا۔

ٹیم کی رکن 22 سالہ ازابیلا واننگن کے مطابق گاڑی نے دشوار راستے پر توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم کے ارکان گاڑی کی کارکردگی دیکھ کر مثبت طور پر حیران ہوئے۔

مزیدپڑھیں:مزاحیہ شاعر ڈاکٹر فخر عباس 50 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

تجربے کا ایک اہم نتیجہ یہ سامنے آیا کہ جب اسٹیلا جووا ایک جگہ کھڑی تھی اور اس کے تمام طبی آلات بیک وقت چل رہے تھے، تب بھی سولر پینل اتنی توانائی پیدا کر رہے تھے جو گاڑی اور آلات کی کھپت سے زیادہ تھی۔ طلبہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی روایتی ایندھن یا بجلی کے چارجنگ اسٹیشن سے منسلک ہوئے بغیر بھی کام کرسکتی ہے۔

اس تجربے میں طبی آلات حقیقی مریضوں پر استعمال نہیں کیے گئے، تاہم سولر ٹیم آئندھوون اور امریف ہیلتھ افریقہ کے مطابق ان آلات کے ذریعے دو دن میں تقریباً 200 افراد کا علاج کیا جا سکتا تھا۔

کینیا میں صحت کے ماہرین کے مطابق ایسے منصوبے خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں جہاں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے طبی سہولتیں محدود ہیں۔ امریف ہیلتھ افریقہ کے پروگرام مینیجر جان کٹنا نے بتایا کہ بجلی کی عدم فراہمی کا اثر حاملہ خواتین پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ انہیں الٹراساؤنڈ جیسی ضروری سہولتیں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق ایسی جگہوں پر شمسی ایمبولینس خاصی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

سولر ٹیم آئندھوون 2013 سے طلبہ کو ایک سال پر محیط منصوبوں کے ذریعے ماحول دوست گاڑیاں تیار کرنے کے لیے اکٹھا کر رہی ہے۔ اس سے قبل ٹیم شمسی توانائی سے چلنے والی کیمپر وین ’اسٹیلا ویٹا‘ اور آف روڈ شمسی گاڑی ’اسٹیلا ٹیرا‘ بھی تیار کر چکی ہے۔

اب اسٹیلا جووا کو واپس نیدرلینڈز منتقل کیا جائے گا، تاہم طلبہ چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ صرف ایک تجرباتی نمونہ بن کر نہ رہ جائے۔ ٹیم کے رکن یارنو باسٹن کا کہنا ہے کہ وہ صنعت اور معاشرے کو اس طرح کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں تاکہ سماجی مسائل کے نئے حل تلاش کیے جاسکیں۔

تاہم اس گاڑی کو بڑے پیمانے پر عملی استعمال میں لانے کے لیے مالی وسائل ایک اہم رکاوٹ ہوسکتے ہیں۔ کینیا کے صحت کے شعبے کو پہلے ہی فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے بیرونی امداد میں کمی نے اس مسئلے کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

اس کے باوجود کینیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیلا جووا کا کامیاب تجربہ کئی سطحوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ اس سے مقامی طلبہ کو اپنی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوسکتا ہے کہ ملک میں دستیاب سورج کی روشنی کو صحت کے شعبے کے لیے عملی طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کینیا نے قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر شمسی توانائی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن طبی مراکز میں علاج کے لیے سولر توانائی کا استعمال اب بھی محدود ہے۔ بعض ادارے پہلے ہی شمسی توانائی سے چلنے والے فریج استعمال کر رہے ہیں تاکہ ویکسین محفوظ درجہ حرارت پر رکھی جاسکیں، جبکہ کچھ مراکز میں سولر لائٹس بھی نصب کی گئی ہیں۔

امریف ہیلتھ افریقہ کے ماہر کینیڈی واکولی کے مطابق دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتیں بہتر بنانے کے لیے سورج کی توانائی انتہائی اہم ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ سورج کی روشنی تقریباً ہر جگہ دستیاب ہے۔ ان کے مطابق کینیا قابلِ تجدید توانائی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اسٹیلا جووا جیسے منصوبے صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔