بھارت میں تعینات روسی سفیر ڈینس الیپوف نے امریکا کے ٹیرف لگانے سے متعلق مجوزہ منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اور ٹیرف لگانے والوں نے تعاون کے بجائے دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈوں کا راستہ اختیار کیا اسی لیے یہ ممالک بھارت کو تیل کی روس سے بہتر پیشکش نہیں کرسکتے۔
روسی سفیر نے خبردار کیا کہ اگر روسی تیل فروخت کی اجازت نہ دی گئی تو دنیا کو جس صورتحال کا سامنا ہوگا توانائی کی منڈیاں اس کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔
دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایران بھی بالآخر مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔
لاوروف نے کہا کہ اگر مصر اور الجزائر مکہ معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ بھی مثبت پیشرفت ہوگی اور یہ روس کی جانب سے پیش تصور کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق بہت اچھا عملی قدم ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری نہ روکی تو اس پر بھاری ٹیرف جاری رہیں گے۔
مزید پڑھیں:کراچی: لانڈھی کی2 فیکٹریوں میں لگی آگ پر 16 گھنٹے بعد قابو پالیا گیا
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت نے امریکی دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور بھارتی کمپنی نے روسی تیل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔













منگل 8 ستمبر 2026 

