میکسیکو کے ایک جنگل کے گھنے درختوں کی چھتری کے نیچے صدیوں سے اوجھل مایا تہذیب کا ایک انتہائی بڑا اور عظیم الشان شہر دریافت ہو گیا ہے۔
جنوب مشرقی ریاست کیمپیچے (Campeche) میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے نایاب اہرام، کھیلوں کے میدان، مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑنے والے پکے راستے اور ایمفی تھیٹر (کھلے میدان کے اسٹیڈیم) دریافت کیے ہیں۔
انہوں نے اس پوشیدہ کمپلیکس کو والیرینا (Valeriana)کا نام دیا ہے۔ اس دریافت کے لیے لیڈار (Lidar)ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جو کہ ایک لیزر سروے ہوتا ہے اور گھنی نباتات کے نیچے دبی ہوئی ساختوں کا نقشہ تیار کرتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ قدیم لاطینی امریکہ میں مایا تہذیب کے سب سے بڑے مقام کالاکمل (Calakmul) کے بعد یہ شہر کثافت اور آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا جتنے بڑے رقبے پر مشتمل سروے کے دوران کل تین مقامات “حادثاتی طور پر” دریافت کیے، جب ایک ماہرِ آثارِ قدیمہ انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا کی چھان بین کر رہا تھا۔

امریکہ کی ٹولین یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے طالب علم لیوک اولڈ تھامس (Luke Auld-Thomas) بتاتے ہیں: “میں گوگل سرچ کے تقریباً 16ویں صفحے پر موجود تھا جہاں مجھے ماحول کی نگرانی کرنے والی ایک میکسیکن تنظیم کا لیزر سروے ڈیٹا ملا”۔
یہ ایک لیڈار (Lidar) سروے تھا—یہ ایک ایسی ریموٹ سینسنگ تکنیک ہے جو ہوائی جہاز سے ہزاروں لیزر شعاعیں خارج کرتی ہے اور سگنل کی واپسی کے وقت کے حساب سے نیچے موجود اشیاء کا نقشہ بناتی ہے۔
تاہم، جب مسٹر اولڈ تھامس نے آثارِ قدیمہ میں استعمال ہونے والے طریقوں کے تحت اس ڈیٹا کو پروسیس کیا، تو انہوں نے وہ دیکھ لیا جو باقی سب سے چھوٹ گیا تھا—ایک بہت بڑا قدیم شہر جو 750 سے 850 عیسوی کے عروج کے دور میں 30,000 سے 50,000 لوگوں کا مسکن رہا ہوگا۔
محققین کے مطابق، یہ تعداد اس خطے میں آج رہنے والے لوگوں کی موجودہ آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
مسٹر اولڈ تھامس اور ان کے ساتھیوں نے اس شہر کا نام قریب ہی واقع ایک جھیل کے نام پروالیرینا رکھا۔
اس تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر مارسیلو کانوٹو کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مغربی سوچ کے اس نظریے کو بدلنے میں مدد ملتی ہے کہ خطہ استوائی (Tropics) وہ جگہ تھی جہاںتہذیبیں تباہ و برباد ہونے جاتی تھیں”۔ اس کے برعکس، دنیا کا یہ حصہ انتہائی امیر اور پیچیدہ ثقافتوں کا مرکز تھا۔
اگرچہ ہم یہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس شہر کی زوال پذیری اور بالآخر ویرانی کی کیا وجوہات تھیں، لیکن ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اس کا ایک بڑا سبب تھا۔
والیرینا میں ایک دارالحکومت کی تمام تر خصوصیات موجود ہیں اور عمارتوں کے پھیلاؤ کے لحاظ سے یہ تقریباً 100 کلومیٹر (62 میل) دور واقع شاندارکالاکمل کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ شہر ہماری آنکھوں کے سامنے چھپا ہوا تھا، کیونکہ یہ ایکسپوجل (Xpujil) کے قریب ایک اہم شاہراہ سے محض 15 منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے، جہاں اب زیادہ تر مایا نسل کے لوگ ہی آباد ہیں۔
اس گم شدہ شہر کی کوئی جدید تصاویر موجود نہیں ہیں کیونکہ وہاں پہلے کبھی کوئی نہیں گیا، اگرچہ مقامی لوگوں کو مٹی کے ٹیلوں کے نیچے آثار موجود ہونے کا شک ضرور تھا۔
یہ شہر تقریباً 16.6 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا تھا، جس کے دو بڑے مرکزی مراکز تھے اور ان کے گرد بڑی عمارتیں تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھیں، جو کہ گھنے مکانات اور پکے راستوں سے آپس میں جڑی ہوئی تھیں۔
اس میں دو بڑے چوک (Plazas) بھی تھے جہاں مندروں جیسے اہرام موجود تھے، جہاں مایا قوم عبادت کرتی تھی، قیمتی خزانے جیسے جیڈ (Jade) کے ماسک دفن کرتی تھی اور اپنے مردوں کو دفناتی تھی۔ اس میں ایک اسپورٹس کورٹ بھی ملا ہے جہاں لوگ ایک قدیم گیند کا کھیل کھیلا کرتے تھے۔
اس کے علاوہ وہاں پانی کے ذخیرے (Reservoir) کے شواہد بھی ملے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اتنی بڑی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زمین اور قدرتی وسائل کا منظم استعمال کرتے تھے۔
مسٹر اولڈ تھامس اور پروفیسر کانوٹو نے جنگل میں کل تین مختلف مقامات کا سروے کیا جہاں انہیں مختلف سائز کی 6,764 عمارتیں ملیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر الیزابیتھ گراہم، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ ان دعووں کو تقویت دیتی ہے کہ مایا قوم الگ تھلگ دیہاتوں کے بجائے پیچیدہ اور منظم شہروں میں رہا کرتی تھی۔
وہ کہتی ہیں: اصل بات یہ ہے کہ یہ زمین ماضی میں باقاعدہ طور پر آباد تھی، نہ کہ جیسا کہ عام آنکھ سے نظر آتا ہے کہ یہ ویران یاجنگلی ہے۔
تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ جب 800 عیسوی کے بعد مایا تہذیب کا زوال شروع ہوا، تو اس کی ایک وجہ ان کا انتہائی گنجان آباد ہونا تھا اور وہ شدید خشک سالی اور موسمیاتی مسائل کا مقابلہ نہ کر سکے۔
مسٹر اولڈ تھامس کہتے ہیں: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خشک سالی کے آغاز پر یہ علاقہ لوگوں سے پوری طرح بھرا ہوا تھا اور ان کے پاس لچک یا متبادل کی گنجائش نہیں بچی تھی۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب لوگ دور منتقل ہونے لگے تو پورا نظام ہی درہم برہم ہو گیا۔
اس کے علاوہ 16ویں صدی میں جنگیں اور ہسپانوی حملہ آوروں کے قبضے نے بھی مایا شہری ریاستوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
پروفیسر کانوٹو وضاحت کرتے ہیں کہ لیڈار (Lidar) ٹیکنالوجی نے گھنی نباتات اور جنگلات سے ڈھکے ہوئے علاقوں میں آثارِ قدیمہ کے سروے کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل دیا ہے اور گم شدہ تہذیبوں کی ایک نئی دنیا کھول دی ہے۔
ان کے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں، یہ سروے پیدل چل کر ہاتھ سے سادہ آلات کی مدد سے انچ انچ زمین کو چیک کر کے کیے جاتے تھے۔ لیکن جب سے میسو امریکن خطے میں لیڈار کا استعمال شروع ہوا ہے، اس نے صرف ایک دہائی کے اندر اندر اس سے 10 گنا زیادہ رقبے کا نقشہ بنا دیا ہے جتنا ماہرین نے ایک صدی کے کام میں تیار کیا تھا۔
مسٹر اولڈ تھامس کا کہنا ہے کہ ان کے اس کام سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں ابھی بھی بہت سے ایسے مقامات موجود ہیں جن کا ماہرین کو کوئی علم نہیں ہے۔ حقیقت میں اتنی بڑی تعداد میں سائٹس دریافت ہو چکی ہیں کہ محققین ان تمام پر کھدائی کی امید بھی نہیں رکھ سکتے۔
وہ مزید کہتے ہیں:مجھے کسی نہ کسی وقت والیرینا جانا ہی پڑے گا۔ یہ سڑک کے اتنے قریب ہے کہ آپ وہاں جانے سے خود کو کیسے روک سکتے ہیں؟ لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم وہاں باقاعدہ کھدائی کا منصوبہ بنائیں گے۔لیڈار کے دور میں اتنے سارے نئے مایا شہروں کی دریافت کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ یہ ہماری پڑھائی اور مطالعہ کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہیں۔













پیر 7 ستمبر 2026 

