آسٹریلیا: کرکٹ آسٹریلیا نے بگ بیش لیگ (BBL) کے کلبوں میں نجی سرمایہ کاری لانے کے منصوبے کی اگلے مرحلے میں پیش رفت کی منظوری دے دی، تاہم آسٹریلوی کرکٹرز ایسوسی ایشن (ACA) کے ساتھ کھلاڑیوں کے معاوضوں اور آمدن میں حصے سے متعلق اہم معاملات پر اب بھی اختلاف برقرار ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے بورڈ نے ریاستی کرکٹ اداروں کو اپنے BBL کلبوں میں نجی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے یا مکمل ملکیت منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس عمل کا آغاز میلبورن رینیگیڈز
سے ہوگا، جس کے لیے نجی سرمایہ کاروں سے بولیاں طلب کی جائیں گی اور ہدف ہے کہ کلب 2027-28 کے سیزن میں نئی ملکیت کے تحت کھیلے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق ’’سیلف ڈیٹرمینیشن‘‘ ماڈل کے تحت ہر ریاست اپنے کلب کے لیے موزوں راستے کا تعین کرسکے گی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ نجی سرمایہ کاری سے کمیونٹی کرکٹ، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پروگرامز اور اعلیٰ سطح کی کرکٹ میں سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد ملے گی۔
تاہم آسٹریلوی کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو پال مارش کے مطابق کھلاڑیوں اور کرکٹ آسٹریلیا کے درمیان معاہدے کے اہم نکات پر فریقین اب بھی کافی فاصلے پر ہیں۔ کھلاڑیوں نے آمدن میں حصے کے تنازع پر آزادانہ جائزے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
مزید پڑھیں:سنگاپور میں وزرا کی تنخواہوں میں بڑا اضافہ، وزیراعظم لارنس وونگ کا اعلان
کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ کا کہنا ہے کہ نجی سرمایہ کاری بگ بیش لیگ اور آسٹریلوی کرکٹ کے طویل مدتی مستقبل کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی، جبکہ اہم معاملات پر کرکٹ آسٹریلیا اور ریاستی اداروں کا کنٹرول برقرار رہے گا۔













منگل 8 ستمبر 2026 

