بانی پی ٹی آئی جیسی طبی سہولیات کا مطالبہ، وفاقی آئینی عدالت کا اہم اقدام

Calender Icon پیر 14 ستمبر 2026

اسلام آباد ( ملک نجیب ) وفاقی آئینی عدالت(Federal Constitutional Court) نے قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کی طرز پر طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تین قیدیوں کی اپیلوں پر دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جیل رول نمبر 197 کے تحت قیدی کے علاج کے اخراجات سرکار برداشت کرے گی، رول 197 میں کوئی ابہام نہیں، عدالت کا حکم قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قیدیوں کو علاج کے لئے نجی ہسپتال ہی کیوں منتقل کیا جائے، سرکاری ہسپتال میں علاج کیوں نہیں ہوسکتا؟ انہوں نے سوال کیا کہ پولی کلینک اور پمز ہسپتال میں علاج کیوں نہیں ہوسکتا؟ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نجی ہسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے، یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے۔ جیل مینول کا کیا فائدہ اگر اس پر عمل نہیں کیا جائے؟ جیل مینول بالکل واضح ہیں، غیرمساوی رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ تمام افراد کے لیے الگ الگ طریقہ کار نہیں ہوسکتا، آپ کے مطابق تفریق نہیں ہونی چاہیے اور ہر قیدی کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے قیدی کو دو ماہ کے دوران آٹھ مرتبہ علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔

مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

بہتر علاج کے لئے انہیں نجی ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے جبکہ ان کے موکل کے معاملے میں ہسپتال کی رپورٹس بھی نجی ہسپتال منتقل کیے جانے کی حمایت کرتی ہیں۔ دوران سماعت وکیل نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپریم کورٹ کے مقدمے کا حوالہ بھی دیا۔ اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسی بات ہے تو آپ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ اسی مقدمے میں فریق کیوں نہ بنے؟

وکیل نے جواب دیا کہ یہ مقدمہ آئینی درخواست کے ذریعے دائر ہوا تھا اور آئینی درخواست کی اپیل وفاقی آئینی عدالت میں ہوسکتی ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے وکیل سے کہا کہ آپ جیل مینول کی بنیاد پر دلائل دے رہے ہیں، اگر جیل مینول پر عمل نہیں کرنا تو پھر اس کا کیا فائدہ؟ وفاقی آئینی عدالت نے درخواستوں کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا، جبکہ تین قیدیوں کی اپیلوں پر دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔