شہر قائد(Karachi) کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ماں اور 3 بچوں کے قتل کے افسوس ناک کیس میں 30 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
واردات میں قتل ہونے ہونے والی خاتون مہوش کا موبائل فون گھر سے غائب ہے، جس نے تفتیشی پولیس کو پریشان کر دیا ہے، شوہر نے گھر پہنچنے سے پہلے کال کی تو کال جا رہی تھی، لیکن بعد میں نمبر بند ہو گیا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر کی رات گئے تک تلاشی لی گئی لیکن موبائل فون نہ مل سکا، فون کال ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر مقتولہ کا فون مل جاتا تو اس سے اہم شواہد سامنے آ سکتے تھے۔
ذرائع کے مطابق گھر میں آنے جانے کے لیے مرکزی گیٹ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، گھر میں کھڑکی اور دروازہ توڑے جانے کے شواہد بھی نہیں ملے ہیں، چھت سے بھی گھر میں کسی کا آنا اور جانا ممکن نہیں ہے، اور آلہ قتل بھی ابھی تک نہیں مل سکا ہے۔
ایف آئی آر درج
قتل کے واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے سسر محمد یامین کی مدعیت میں دفعہ 302 کے تحت تھانہ سرجانی ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے، جس کے مطابق مقتولہ مہوش اور دانش کی شادی دس بارہ سال قبل ہوئی تھی۔
واقعے کے دن شام ساڑھے 4 بجے بہو مہوش نے فون کر کے بی سی (کمیٹی) بھیجنے کا کہا، بعد ازاں رات سوا 8 بجے بیٹے دانش نے روتے ہوئے فون کیا اور کہا کہ ’’میں برباد ہو گیا ہوں، کسی نے میری بیوی اور دو بچوں کو قتل کر دیا ہے جب کہ چھوٹی بیٹی اشمیرہ شدید زخمی ہے۔‘‘
مزیدپڑھیں:پیٹرول مزید مہنگا ہوگا، وزیر پیٹرولیم
مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ جب وہ بیٹے کے گھر پہنچے تو پولیس پہلے سے موجود تھی اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کی جانے والی معصوم بچی اشمیرہ بھی رات گئے دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
تحقیقاتی کمیٹی اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں چوٹوں کی تفصیل
قتل کی اس دل دہلا دینے والی واردات کی تحقیقات کے لیے 8 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی ہیں، ٹیم میں ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سرجانی بھی شامل ہیں۔
ماں اور تین بچوں کے قتل کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ بھی تیار کر لی گئی ہے، پولیس سرجن کے مطابق جاں بحق افراد کے سر پر متعدد شدید نوعیت کی چوٹیں پائی گئی ہیں، ان شدید ضربوں کے باعث دماغی ٹشوز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پولیس سرجن کے مطابق شدید زخمی کمسن اشمیرہ دوران علاج جناح اسپتال میں دم توڑ گئی تھی، لاشوں سے نمونے لے کر کے کیمیکل ایگزامن کے لیے بھیج دیے گئے ہیں، مقتولین کو کوئی نشہ آور چیز دی گئی یا نہیں یہ رپورٹ میں واضح ہوگا۔













بدھ 16 ستمبر 2026 

