حوثی فورسز نے یمن کی فضائی حدود میں ایک سعودی(Saudi F-15) ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے شمال مشرقی صوبے مأرب کے علاقے میں واقع جبل حیلان کے قریب ایک سعودی ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مقامی سطح پر تیار کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے سعودی لڑاکا طیارہ مار گرایا۔
ترجمان حوثی فوج نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے ملک اور عوام کے خلاف اس وحشیانہ جارحیت کے پیشِ نظر یمنی مسلح افواج نے اللّٰہ کی مدد اور فضل سے ایک سعودی ایف-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا، جب وہ مأرب گورنری کی فضائی حدود میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی کارروائیوں کی حمایت میں دشمن کارروائیاں کر رہا تھا۔
دوسری جانب یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللّٰہ نے بھی سعودی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے صدر کے عہدے کے لیے نامزد رہنما کے نام کا اعلان کردیا
ترجمان انصاراللّٰہ کا کہنا ہے کہ یمن کے صوبے مارب میں سعودی ایف 15 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے، سعودی ایف 15 کو مقامی طور پر بنائے گئے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا، سعودی لڑاکا طیارہ مارب میں ہونے والی دشمن کارروائیوں میں شامل تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان فضائی کارروائیاں اور سرحد پار حملے شدت اختیار کر گئے ہیں۔
سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی اتحاد نے کہا تھا کہ یمنی حوثیوں کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون کو مکہ کے گرد ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی روک لیا گیا تھا۔
ترجمان سعودی اتحادی ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش تھی، اس سے پہلے جولائی 2017ء میں بھی مکہ پر بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔
گزشتہ رات سعودی عرب کے شہروں جزان، ابہا اور خمیس مشیط میں حملے کے خطرات پر سائرن بج اٹھے تاہم کچھ دیر بعد وارننگ واپس لے لی گئی۔













بدھ 16 ستمبر 2026 

