بجلی چوری روکنے کیلئے فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمرز کو آن آف کرنے کا نیا اور انقلابی نظام لانے کا فیصلہ

Calender Icon بدھ 16 ستمبر 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بجلی چوری کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک اور بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے بجلی چوری کی روک تھام اور لوڈ مینجمنٹ کو بہتر اور مربوط بنانے کے لیے ٹرانسفارمر کی سطح پر بجلی بند کرنے کا نیا اور جدید نظام لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے نہ صرف چوری پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عام صارفین کو بھی غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اس نئے نظام کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جدید نظام کے تحت جس بھی مخصوص ٹرانسفارمر پر بجلی چوری یا لائن لاسز کی بازگشت سنائی دے گی یا نشاندہی ہوگی، صرف اور صرف اسی ٹرانسفارمر کی بجلی کو بند کیا جاسکے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پورا فیڈر بند کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جس سے اس فیڈر پر جڑے دیگر لاکھوں ایماندار صارفین بلا وجہ بجلی کی بندش سے محفوظ رہیں گے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک بھر میں موجود قریباً ایک لاکھ نوے ہزار (190,000) ٹرانسفارمرز کے اوپر یہ آن اور آف کرنے کا جدید سسٹم نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نظام کے نفاذ سے پورا فیڈر بند کرنے کا پرانا اور فرسودہ طریقہ کار ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ کوئی معمولی یا روایتی اقدام نہیں بلکہ یہ ایک بالکل نیا تصور ہے جو اس وقت دنیا کے مختلف ترقی یافتہ حصوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس جدید نظام کے بروقت اور کامیاب نفاذ کے لیے تمام ضروری ریگولیٹری فریم ورک آئندہ سال کے وسط یعنی اپریل یا مئی تک باضابطہ طور پر فراہم کر دیا جائے گا۔

موجودہ توانائی کے بحران اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر توانائی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے نظام میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد اب لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے سسٹمز کے ساتھ بیٹریاں لگانا شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کی بدولت چند لاکھ یعنی تین سے چار لاکھ افراد کا مالی بوجھ ملک کے باقی ساڑھے تین کروڑ عام صارفین پر پڑنے سے کامیابی کے ساتھ روک دیا گیا ہے، جو کہ قومی معیشت اور عام آدمی کے مفاد میں ایک انتہائی منصفانہ قدم ہے۔

علاوہ ازیں، ملک میں گیس اور پیٹرولیم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اویس لغاری نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش جیسے بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی مسائل کی وجہ سے پیٹرولیم ڈویژن کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث ایل این جی کے کارگوز بروقت نہیں لائے جا پا رہے۔ اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے بتایا کہ حکومت ملکی سطح پر دستیاب مقامی گیس کو انتہائی عقل و فہم، حکمت اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کر رہی ہے تاکہ توانائی کے اس بحران کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔