خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کو عمران خان (Imran Khan)کے دورِ حکومت میں قائم کیے جانے کے دعوے نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی، تاہم فیکٹ چیک میں دعوے کی حقیقت جانچنے پر کئی اہم تاریخی حقائق سامنے آئے ہیں۔
پی ٹی آئی سے وابستہ ایک نوجوان نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیاں عمران خان کے دور حکومت میں بنائی گئی ہیں، تاہم اس دعوے کا فیکٹ چیک کیا گیا تو حقائق اس کے برعکس سامنے آئے۔
سوشل میڈیا پر اس دعوے کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آج کے دور میں مصدقہ معلومات تک رسائی آسان ہونے کے باوجود سیاسی وابستگی کی وجہ سے تاریخی حقائق کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
مزیدپڑھیں:نجی دورے میں سرکاری طیارے کا استعمال، مریم نواز نے اخراجات ادا کر دیے
کبھی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لیڈی ریڈنگ اسپتال عمران خان نے بنایا، تو کبھی تاریخی اسلامیہ کالج پشاور کے بارے میں بھی ایسی ہی غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پشاور کا تاریخی اسلامیہ کالج برطانوی دور حکومت میں 1913ء میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا تحریک پاکستان اور خطے کی تعلیمی تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنان کو کسی بھی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے مصدقہ ذرائع یا انٹرنیٹ پر موجود معلومات سے حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے۔
عوامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ماضی میں کیے گئے ترقیاتی دعووں، جن میں درخت لگانے کے منصوبے، ڈیموں کی تعمیر اور ہاؤسنگ اسکیموں کے وعدے شامل ہیں، کی حقیقی صورتحال کیا رہی ہے۔













جمعرات 17 ستمبر 2026 

