امریکی ڈرون ساز کمپنی ’پاور یو ایس‘ کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے پاکستان(Pakistan) کے ساتھ ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے اور کمپنی کو ڈرونز کے ابتدائی آرڈر موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
بریٹ ویلیکووچ نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز اس اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے اور آرڈر موصول ہوا، تاہم سکیورٹی وجوہات اور معلومات کو خفیہ رکھنے کی پالیسی کے باعث انہوں نے ڈرون ٹیکنالوجی کی نوعیت یا معاہدے کی مالی قدر کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
بریٹ ویلیکووچ نے مزید کہا کہ اس تعاون کا مقصد امریکا اور پاکستان کی بہترین ٹیکنالوجی کو یکجا کرنا ہے اور کمپنی پاکستان میں بھی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی ہے کہ بریٹ ویلیکووچ کی قیادت میں پاور یو ایس کے ایک وفد نے جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دفاعی خریداری، دفاعی پیداوار اور طویل المدتی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل انتہائی اہم ہیں۔
تاہم آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مفاہمتی یادداشت کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔
مزیدپڑھیں:سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت منظور کر لی
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور دونوں ممالک دفاعی و اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق پاور یو ایس کمپنی کی ایک امریکی کاروباری ادارے کے ساتھ انضمام کی تیاری بھی جاری ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں کی سرمایہ کاری شامل ہے۔
اس حوالے سے پاور یو ایس کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو فاکس نے واضح کیا کہ کمپنی کی ترقی یا معاہدوں کا ٹرمپ کے بیٹوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور معاہدے مکمل طور پر قابلیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پاور یو ایس کے انتظام یا آپریشنز سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ امریکا یا بیرون ملک کسی بھی قسم کے معاہدوں کے عمل میں شامل نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ اس معاہدے میں مفادات کا کوئی تصادم نہیں ہے۔













جمعرات 17 ستمبر 2026 

