سپریم کورٹ(Supreme Court) نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کا بھی حکم دیا ہے۔
جعمرات کو جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی جانب سے سزاؤں کی معطلی کے لیے دائر اپیلوں پر سماعت کی۔
عدالت نے دونوں ملزمان کو 2، 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’دونوں وکیل ہیں، ہم ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں کہ عدالت کے ڈیکورم (تقدس) کا خیال رکھیں۔ ایک وکیل اور ایک عام آدمی کے رویے میں واضح فرق ہوتا ہے۔‘
واضح رہے کہ رواں سال 24 جنوری کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کے تحت مختلف الزامات میں دونوں کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
سیشن عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا میں سائبر دہشت گردی کے تحت 10 سال، جرم کی ترویج کے تحت 5 سال اور بے بنیاد معلومات پھیلانے کے تحت 2 سال کی قید شامل تھی۔
جوڑے کو ابتدائی طور پر 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور ہائی کورٹ بار کے صدر سے مبینہ بدتمیزی کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے محض ایک دن بعد ہی انہیں سوشل میڈیا کیس میں سزائیں سنا دی گئی تھیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ 12 اگست 2025 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مدعیت میں ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر ریاست مخالف اور کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی مبینہ تشہیر کرنے اور خیبر پختونخوا و بلوچستان کے حوالے سے سیکیورٹی فورسز پر بے بنیاد اور متنازع الزامات عائد کرنے کا الزام تھا۔
ملزمان نے فروری میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزائیں معطل کرنے کے لیے اپیل دائر کی تھی، تاہم ہائی کورٹ کی جانب سے استدعا مسترد ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں سے انہیں ریلیف ملا اور سپریم کورٹ نے دونوں کی عبوری رہائی اور سزاؤں کی معطلی کا حکم دیا ہے۔













جمعرات 17 ستمبر 2026 

