ایک بین الاقوامی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صحت بخش اور متوازن غذا کا باقاعدہ استعمال انسانی جسم کے بیالوجیکل بڑھاپے کی رفتار کو نمایاں طور پر سست کر دیتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے کسی ایک مخصوص یا سخت ڈائٹ کی پابندی ضروری نہیں بلکہ مختلف متوازن غذائی طریقے یکساں مفید ثابت ہوتے ہیں۔
معروف سائنسی جریدے ’نیچر کمیونیکیشنز‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً 7,500 افراد کے خون کے نمونوں اور ان کی روزمرہ غذائی عادات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
جرمن سینٹر فار نیوروڈیجنریٹو ڈیزیز کی اہم محقق جولیانا تاوارس کی سربراہی میں ٹیم نے تین مختلف ’ایپی جینیٹک کلاکس‘ کی مدد سے ڈی این اے کے تقریباً 850,000 مقامات کا معائنہ کیا، جو ماضی کی تحقیقات کے مقابلے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
10 مختلف غذائی طریقوں کے مثبت نتائج
تحقیق کے دوران بحیرہ روم کی روایتی غذا (میڈیٹریینین)، نوردک، ڈیش اور نباتاتی (پلانٹ بیسڈ) ڈائٹ سمیت 10 مشہور صحت بخش غذائی ماڈلز کا موازنہ کیا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ غذا کے معیار میں بہتری آتے ہی ڈی این اے میں عمر رسیدگی سے وابستہ منفی تبدیلیاں سست پڑ گئیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر فرد اپنی سہولت کے مطابق صحت بخش طریقہ منتخب کر سکتا ہے۔
سگریٹ نوشوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند
اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد نے معیاری غذا اپنا کر سب سے زیادہ صحت بخش نتائج حاصل کیے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ سگریٹ نوشی جسم کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے غذائی معیار بہتر بنانے سے ان کے جسمانی نظام کو نسبتاً زیادہ اور فوری فائدہ پہنچا۔
خلیاتی ساخت اور امراض سے تحفظ
سائنس دانوں کے مطابق ان تمام 10 غذائی طریقوں میں 70 فیصد سے زیادہ بیالوجیکل راستے مشترک پائے گئے، جو خلیوں کی ساخت، ان کے باہمی پیغام رسانی کے نظام اور میٹابولزم کو بہتر بناتے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈیش ڈائٹ سے دل کی صحت اور مائنڈ ڈائٹ سے دماغی صلاحیتوں کو خاص فائدے ملے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبی عمر کے لیے سخت ڈائٹنگ کے بجائے روزمرہ خوراک کی کوالٹی میں تھوڑی سی بہتری بھی بہترین نتائج دے سکتی ہے۔













ہفتہ 19 ستمبر 2026 

