انسانی گردے کی نشوونما اور بیماریوں کے علاج کو سمجھنے کے لیے سائنس دان اسٹیم سیلز سے گردے کے چھوٹے ماڈلز تیار کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں۔ RIKEN کی تحقیقی سائنس دان اولینا ٹروش بھی گردے کے آرگنائڈز اور نیفرون کی نشوونما کے اہم مراحل پر کام کر رہی ہیں۔
انسانی جسم کے ہر گردے میں تقریباً 10 لاکھ فلٹرنگ یونٹس موجود ہوتے ہیں جنہیں نیفرونز کہا جاتا ہے۔ نیفرون گردے کے بنیادی حصوں میں شامل ہیں اور ان کی نشوونما مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ تحقیقی سائنس دان اولینا ٹروش کی تحقیق کا ایک اہم مقصد نیفرون کی نشوونما کے اس مرحلے کو سمجھنا ہے جس میں ایک خاص ساخت تشکیل پاتی ہے جسے ایس شیپڈ باڈی (S-shaped body) یا SSB کہا جاتا ہے۔
اولینا ٹروش RIKEN سینٹر فار بایوسسٹمز ڈائنامکس ریسرچ کی لیبارٹری فار ہیومن آرگینوجنیسس سے وابستہ ہیں۔ ان کی تحقیق نیفرون کی تشکیل کے اہم مرحلے اور گردے کے آرگنائڈز کی تیاری پر مرکوز ہے۔
ان کے مطابق ایس شیپڈ باڈی اپنی منفرد S نما ساخت کی وجہ سے نمایاں ہوتی ہے اور نیفرون کی نالیوں کے مزید خم کھانے کے عمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تاہم خلیاتی کلچر میں ایس شیپڈ باڈی کی ساخت کو قائم کرنا آسان نہیں، اسی لیے تحقیق کا ایک مقصد اس عمل کو بہتر بنانا ہے۔
اولینا ٹروش ایک دوسرے تحقیقی منصوبے پر بھی کام کر رہی ہیں جس میں پلو ری پوٹنٹ اسٹیم سیلز سے ہیمسٹرز کے لیے گردے کے آرگنائڈز تیار کیے جا رہے ہیں۔
آرگنائڈز چھوٹے اور خود منظم ہونے والے تین جہتی بافتی کلچر ہوتے ہیں جو کسی عضو کی مخصوص خصوصیات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں ہیمسٹرز کے گردے کے آرگنائڈز تیار کیے جا رہے ہیں۔
ہیمسٹرز مختصر مدت کے لیے ہائبرنیشن یا ٹارپر کی حالت میں جاتے ہیں۔ اولینا ٹروش اور ان کی ٹیم آرگنائڈز میں بھی اس ٹارپر کی حالت کو پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس حالت سے متعلق منفرد حیاتیاتی طریقۂ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔
اپنے شعبے میں گزشتہ چند برسوں کی سب سے دلچسپ دریافت کے حوالے سے اولینا ٹروش نے انسانی پلو ری پوٹنٹ اسٹیم سیلز کے ذریعے لیبارٹری میں گردے کی تشکیل کے عمل کو دوبارہ پیدا کرنے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ان کے مطابق یہ پیش رفت ان کی ٹیم کے سربراہ منورو تاکاساتو نے متعارف کرائی تھی اور ان کی ٹیم آج بھی اپنی تحقیق میں گردے کے آرگنائڈز بنانے کے بنیادی طریقۂ کار کو استعمال کر رہی ہے۔
اولینا ٹروش کے مطابق ان کی تحقیق کی اہمیت صرف گردے کی نشوونما کو سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک مقصد تجرباتی جانوروں کے استعمال کو کم کرنا بھی ہے۔
اس مقصد کے لیے اسٹیم سیلز سے تیار کردہ خلیاتی کلچر کو بہتر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ایسے تجربات میں جانوروں کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے جہاں یہ ممکن ہو۔
تحقیق کا ایک اور اہم پہلو مریضوں کے اپنے خلیات سے بہتر آرگنائڈز تیار کرنا ہے۔ ایسے آرگنائڈز بہتر اور ذاتی نوعیت کے علاج کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اولینا ٹروش کے مطابق یہ تحقیق اعضا کی دوبارہ تخلیق اور پیوند کاری کے لیے بھی مواد فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر کسی مریض کے اپنے خلیات سے عضو تیار کیا جائے تو مستقبل میں اس سے جسم کی جانب سے پیوند شدہ عضو کو مسترد کیے جانے کے خطرے کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
RIKEN سے وابستگی کے حوالے سے اولینا ٹروش نے بتایا کہ انہیں اپنی موجودہ پوزیشن کے بارے میں معلومات حکومت کے تحقیقی کیریئر سپورٹ پلیٹ فارم Japan Research Career Information Network یعنی JREC-IN Portal سے حاصل ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ معلومات ملنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر تاکاساتو سینسی سے رابطہ کیا تاکہ تحقیقی موقع کے بارے میں بات کی جا سکے۔
درخواست جمع کرانے سے قبل وہ مختصر دورے پر لیبارٹری بھی گئیں، جہاں انہوں نے ٹیم سے تعارف حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے درخواست جمع کرائی اور انتخاب کے عمل سے گزریں۔
RIKEN میں اپنے سب سے یادگار تجربے کے بارے میں اولینا ٹروش نے بتایا کہ لیبارٹری میں کام کرنے کا طریقہ سیکھنا ان کے لیے سب سے زیادہ یادگار رہا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تحقیق کا شعبہ ڈویلپمنٹل نیورو سائنس یعنی نشوونمایاتی نیورو سائنس سے تبدیل کرکے گردے کی نشوونما کی تحقیق کی طرف منتقل کیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد متعلقہ تحقیق کی زیادہ تر تکنیکیں ان کے لیے نئی تھیں۔
انسانی اسٹیم سیلز سے پہلی مرتبہ نیفرون جیسی ساختیں تیار کرنا ان کے لیے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے شعبے میں اس منتقلی کے دوران انہیں اپنے ساتھیوں کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہوا۔
RIKEN میں کام کرنے سے اپنی تحقیق کو حاصل ہونے والے فوائد کے حوالے سے اولینا ٹروش نے بتایا کہ اس کے کئی پہلو ہیں، تاہم ایک اہم فائدہ تجرباتی جانوروں سے متعلق مواد تک مستقل اور مؤثر رسائی ہے۔
ان کے مطابق RIKEN LARGE یعنی Laboratory for Animal Resources and Genetic Engineering کے ذریعے انہیں تحقیق کے لیے جانوروں سے متعلق مواد تک مستقل اور مؤثر رسائی حاصل ہوتی ہے۔
اولینا ٹروش کی تحقیق میں ایک جانب انسانی نیفرون کی نشوونما کے اہم مرحلے، بالخصوص ایس شیپڈ باڈی کی تشکیل کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اسٹیم سیلز سے گردے کے آرگنائڈز تیار کرکے ان کے مختلف حیاتیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کی تحقیق میں ہیمسٹرز کے ٹارپر کی حالت کا آرگنائڈز میں مطالعہ، انسانی اسٹیم سیلز سے گردے کی تشکیل کے عمل کو سمجھنا، تجرباتی جانوروں کے استعمال کو کم کرنے کے لیے خلیاتی کلچر کو بہتر بنانا اور مریضوں کے اپنے خلیات سے بہتر آرگنائڈز تیار کرنا شامل ہے۔













منگل 15 ستمبر 2026 

