اسرائیلی صدر (Israeli President)اسحاق ہرزوگ نے اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے فلسطینی شہری عبدالفتح الشریف کو قتل کرنے والے سابق اسرائیلی فوجی ایلور عزرایا کی باقی سزا معاف کردی۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کئی سال قبل زخمی فلسطینی شہری کو سر میں گولی مار کر قتل کرنے والے اسرائیلی فوجی ایلور عزرایا کی سزا معاف کردی۔
یہ واقعہ 2016 میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں پیش آیا تھا، جہاں فلسطینی شہری عبدالفتح الشریف کو ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھوں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ اس سے قبل اسرائیلی فوجی کے ایک ساتھی نے عبدالفتح الشریف کو گولیاں مار کر زخمی کردیا تھا اور وہ زمین پر پڑا ہوا تھا۔
واقعے میں ملوث اسرائیلی فوجی ایلور عزرایا اس وقت سارجنٹ کے عہدے پر تعینات تھا۔ عزرایا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسے خدشہ تھا کہ فلسطینی شہری خودکش جیکٹ پہنے ہوئے ہوسکتا ہے اور دھماکا کرسکتا ہے۔
تاہم اسرائیلی عدالت نے فوجی کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ عزرایا کو سزا سنائی گئی اور وہ تقریباً 9 ماہ قید میں رہنے کے بعد مئی 2018 میں رہا ہوگیا تھا۔
اب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے فوجی کی باقی سزا معاف کردی ہے۔ صدارتی دفتر کے مطابق عزرایا نے اپنی مجرمانہ زندگی سے نکل کر نئی زندگی شروع کرنے کی خواہش کے تحت سزا معاف کرنے کی درخواست دی تھی، جسے منظور کرلیا گیا۔
مزیدپڑھیں: عالمی یومِ امن، اسپیکر قومی اسمبلی کا مذاکرات اور سفارت کاری پر زور
اسرائیلی وزیر برائے داخلی سلامتی ایتمار بین گویر نے بھی فوجی کی سزا معافی کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریباً 10 سال قبل عزرایا کی رہائی کے لیے احتجاج کیا تھا اور انہیں خوشی ہے کہ اب اس کی سزا ختم کردی گئی ہے۔
ایتمار بین گویر نے کہا کہ اسرائیلی فوجی نے ایک فلسطینی کو ہلاک کیا تھا جسے انہوں نے دہشت گرد قرار دیا، اس لیے ان کے بقول فوجی کو سزا دینا ہی غلط تھا۔
اسرائیلی وزیر نے مزید کہا کہ صدر اسحاق ہرزوگ کو وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف جاری مقدمات ختم کرنے کا بھی اعلان کرنا چاہیے۔ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے تین مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔ بین گویر نے مطالبہ کیا کہ یہ مقدمات ختم کرنے کے ساتھ ان کا ریکارڈ بھی منسوخ کیا جائے۔













پیر 21 ستمبر 2026 

