وفاقی پنشنرز کیلئے بائیومیٹرک تصدیق کا نیا نظام نافذ، نوٹیفکیشن جاری

Calender Icon پیر 21 ستمبر 2026

وفاقی پنشنرز کیلئے بائیومیٹرک تصدیق کا نیا نظام نافذ کردیا گیا تاہم پنشن کی ادائیگی براہ راست بینک اکاؤنٹس میں جاری رہے گی۔

اعلامیے کے مطابق کمرشل بینکوں کا پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق میں کردار ختم کر دیا گیا، وزارت خزانہ نے پنشن کی ڈیجیٹل تصدیق اور ادائیگی کے نئےایس اوپی جاری کردیئے۔ اب پنشنرز کی زندگی کی تصدیق نادرا کے ذریعے ڈیجیٹل طریقے سے ہوگی۔

وزارت خزانہ کے مطابق نادرا پنشنرز کا ڈیجیٹل لائف سگنل براہِ راست سی جی اے اورملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو بھیجےگا، پنشنرز کی تصدیق کے لیے بینکوں پر انحصار ختم کر دیا گیا، کمرشل بینک صرف پنشن کی ادائیگی کے ایجنٹ کے طور پر کام کریں گے۔

بینک عام حالات میں پنشنرز کا بائیومیٹرک ڈیٹا وصول یا محفوظ نہیں کر سکیں گے، پنشن کی پرانی کاغذی ترسیل کا دستاویزی نظام ختم کر دیا گیا، پنشنرز اب ڈیجیٹل طریقے سے پروف آف لائف مکمل کریں گے۔ پنشنرز نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے زندگی کی تصدیق کرا سکیں گے۔

اعلامیے کے مطابق نادرا رجسٹریشن سینٹرز اور موبائل یونٹس سے بھی پنشن کی تصدیق ممکن ہوگی، بینک برانچز،موبائل ایپس بھی نادرا کےمجاز مراکز کے طور پر تصدیق کی سہولت دے سکیں گے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مسلسل 6 ماہ تک ڈیجیٹل لائف سگنل نہ ملنے پر پنشن عارضی طور پر روک دی جائے گی، 6 ماہ تک تصدیق نہ ہونے پر اکاؤنٹ کو غیرفعال قرار نہیں دیا جائے گا۔ پنشن اکاؤنٹس صرف بائیومیٹرک تصدیق نہ ہونے سے ڈورمنٹ نہیں کیا جا سکے گا۔

ڈیجیٹل تصدیق ممکن نہ ہونے کی صورت میں متبادل طریقہ بھی موجود ہوگا، ڈیجیٹل تصدیق نہ ہونے پر ضلعی اکاؤنٹس دفاتر اور پنشن سہولت مراکز سے رجوع کیا جا سکےگا۔

بیرون ملک مقیم پنشنرز کے لیے بھی متبادل تصدیقی طریقہ رکھا گیا ہے، نئے ایس او پی میں پنشن کی تصدیق کا عمل زیادہ آسان اور ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ تعزیت

نئے ایس او پی کا اطلاق وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ ملازمین اور اہل فیملی پنشنرز پر ہوگا، حکام کے مطابق نئے پنشن ایس او پی کا مقصد تصدیق کے عمل میں شفافیت اور سہولت بڑھانا ہے۔