عالمی منڈی میں تیل سستا ہوگیا

Calender Icon جمعہ 25 ستمبر 2026

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں(Crude Oil) میں جمعہ کو معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے امکانات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 87 سینٹ یعنی 0.82 فیصد کمی کے بعد 105.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.56 ڈالر یعنی 1.65 فیصد کمی کے بعد 93.05 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

اس سے ایک روز قبل عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا۔ جمعرات کو برینٹ کی قیمت 3.4 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطے بھی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کار نیویارک میں جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔

مجوزہ انتظام کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیاں ختم کیے جانے کا امکان زیرِ غور ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا بحالی کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

مزیدپڑھیں:سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے نتیجے میں مارچ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے یمن کے حوثی گروپ کے میزائل حملوں کو روکنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا گیا۔

سعودی عرب پر حملوں نے ایک مرتبہ پھر خطے میں تیل کی اہم تنصیبات اور سپلائی روٹس کو لاحق خطرات کو نمایاں کردیا ہے۔ مارکیٹ میں سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی کو مزید کس حد تک متاثر کرسکتی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک خام تیل پہنچانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ترسیل بڑھا رہا ہے۔ تاہم خام تیل سے لدے ٹینکرز کی روانگی تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

ماہرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات و ترسیلی راستوں کے تحفظ پر مرکوز ہے، جبکہ کسی بھی بڑی پیش رفت کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے۔