خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان (Dera Ismail Khan)کے علاقے درازندہ میں دھماکے کے متاثرین کو اسپتال منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 ریسکیو اہلکار شہید ایک زخمی ہوگئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق درازندہ کے علاقے امن میلہ میں چیک پوسٹ پر دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف تھیں اور متاثرین کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ ایمبولینس کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں امتیاز اور شریف نامی دو اہلکار شہید ہوئے، جبکہ انیس نامی اہلکار زخمی ہوا، جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
درازندہ میں اس سے قبل امن میلہ کے قریب قائم مشترکہ چیک پوسٹ کو دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق دھماکے میں خواتین اور ایک بچے سمیت متعدد افراد جاں بحق اور 35 افراد زخمی ہوئے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق دھماکے کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، تاہم اسی دوران ایمبولینس پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
مزیدپڑھیں:روس نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کی پیشکش کردی
سرکاری ذرائع نے ایمبولینس پر فائرنگ کے واقعے کو فتنہ الخوارج سے منسوب کیا ہے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کارروائی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں نے ڈیوٹی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حکومت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تحفظ اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں کو امداد اور تحفظ فراہم کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔













اتوار 27 ستمبر 2026 

