عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں(Oil Price) میں منگل کو مسلسل دوسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات ہیں، جبکہ خطے سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی کے آثار نے قیمتوں پر دباؤ محدود رکھا۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 63 سینٹ یا 0.6 فیصد اضافے سے 105.91 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 72 سینٹ یا 0.8 فیصد بڑھ کر 93.32 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ خلیج سے تیل کی برآمدات میں اضافے کی واضح تصویر سامنے آ رہی ہے، تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ بحری جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی جیسے متبادل طریقوں پر منحصر ہے، جو معمول کی کارروائیوں کے مقابلے میں کم مؤثر اور زیادہ مہنگے ہیں، اسی لیے خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔
اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کپلر کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے زیادہ ترسیلات نے اس اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
مزیدپڑھیں:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت سات ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
دریں اثنا امریکا اور ایران کے حکام نے جنگ کے خاتمے کی نئی کوششوں کے تحت ثالثوں کے ذریعے الگ الگ بات چیت کی ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے پیش کی گئی سات روزہ تجویز میں ترمیم شدہ منصوبے پر غور کیا جائے گا۔
ماہر کے مطابق کسی معاہدے کی مستقل امید وہ اہم عنصر ہے جو قلیل مدت میں برینٹ کو 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر مستحکم ہونے سے روک رہی ہے۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز پر بھی توجہ مرکوز ہے، جو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ ادھر امریکا سرخ رنگ کے ڈیزل کی وسیع پیمانے پر فروخت کی اجازت دینے کے لیے ضوابط میں نرمی پر غور کر رہا ہے، جس سے بعض خریدار وفاقی ایندھن ٹیکس سے بچ سکتے ہیں۔













منگل 29 ستمبر 2026 

