وزیر دفاع خواجہ آصف(khawaja asif) نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اپنی قیادت کی حمایت سے 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کے عناصر کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا اور ملک میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ آئندہ لانگ مارچ کے دوران بھی مظاہروں اور جلسے جلوسوں کی آڑ میں فوجی یا پولیس تنصیبات اور چوکیوں کے قریب افراتفری اور بدامنی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور لانگ مارچ کے منتظمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مارچ کے کسی مرحلے میں ’9 مئی جیسی دہشتگردی‘ کی کوشش کی گئی تو ایسی ہر کوشش کو مکمل طور پر کچل دیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف دہشتگردوں کی طرح کارروائی کی جائے گی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ لانگ مارچ کو مبینہ طور پر خیبر پختونخوا تک محدود رکھا جائے گا اور ان کے مطابق صوبائی حکومت نے فتنہ الخوارج کے ساتھیوں کی مدد سے پارٹی کے شرپسند عناصر کو ’بنوں اسٹائل‘ حملوں کے لیے تیار کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، جسے اس کی صوبائی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے، نے صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص اور پاکستان بالعموم میں اپنے آنے والے لانگ مارچ کے ذریعےTTPکے عنصر کے ساتھ مل کے بدامنی اور تشدد پھیلانے کا ایک انتہائی خطرناک اور مذموم منصوبہ تیار کر لیا ہے
اس مذموم…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 2, 2026
وفاقی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں 15 جولائی 2024 کو پیش آنے والے بنوں واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ نے بنوں کینٹ پر خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 8 فوجی اہلکار شہید ہوئے۔
ان کے مطابق 4 روز بعد 19 جولائی کو بنوں میں ہونے والے مظاہرے میں سیاسی اور قوم پرست عناصر بھی شامل ہوئے اور مظاہرین نے کینٹ کے سپلائی ڈپو کی ٹوٹی ہوئی دیوار کے ذریعے اندر داخل ہوکر لوٹ مار کی، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
وزیر دفاع نے سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جدوجہد کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مثالیں اور روایات موجود ہیں، تاہم ان کے بقول سیاسی جدوجہد کی آڑ میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر مسلح بغاوت کی کوشش کو ملکی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں ریاست اپنے دفاع کے لیے ’تمام وسائل‘ استعمال کرے گی۔













ہفتہ 3 اکتوبر 2026 

