وفاقی وزیر امور کشمیر گلگت بلتستان و سیفران امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، گورنر راج سیاسی طور پر کوئی اچھا فیصلہ نہیں، ہم بھی نہیں چاہتے کہ ہم آخری حد پر جائیں۔
پارٹی رہنماؤں زاہد خان اور ثمر بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کے لیے نامزد رہنماؤں کے پاس فیصلہ کرنے کے اختیارات نہیں تھے، معاہدے کے مسودے میں 4 بار تبدیلی کی گئی ، مذاکرات کی ناکامی افسوسناک ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ٹوئٹس کرتے رہے کہ ہم لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو لاوارث چھوڑ وزیر اعلیٰ کے پی ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے حالات کشیدہ ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دھرنوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حالات روز بروز خراب ہو رہے ہیں ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا دو ماہ سے کبھی لاہور کبھی سندھ میں گھوم رہے ہیں۔ عوام کے لیے کوئی کام کرنے کے بجائے احتجاجی سیاست کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں بدعنوانی عروج پر ہے، وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہے، خیبر پختونخوا اس وقت لاوارث صوبہ ہے، وزیراعلیٰ کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے بیٹھنا چاہیے، خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں صوبے کے مسائل پر ایک آواز بنیں، عوام کے مسائل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے بات ہونی چاہیے۔
‘خیبرپختونخوا کو بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے’
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے، صوبہ جل رہا ہے، کوئی باہر نہیں نکل سکتا، لوگ اپنے عزیزوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں، ہمیں دہشت گردی کے معاملے پر ایک پیج پر ہونا چاہیے۔
امیر مقام نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن صوبے کے عوام کے مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خیبر پختونخوا کے عوام کو امن، سہولیات اور بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:چندی گڑھ، بھارت اور ویسٹ انڈیز پر سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے کارکن بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کے نام پر کیا سیاست اور کیا کاروبار ہو رہا ہے، جو لوگ احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں، ان کی سرگرمیاں سب کے سامنے ہیں، ہمیں کسی کے بارے میں دعوے کرنے کی ضرورت نہیں، حقائق عوام کے سامنے ہیں۔













پیر 5 اکتوبر 2026 

