کرہ ارض پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اب نہایت خطرناک شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک اہم اور چونکا دینے والی سائنسی تحقیق کے مطابق، انٹارکٹیکا کے عظیم الشان گلیشیرز اوپر سے سورج کی حرارت کے بجائے اب نیچے سے یعنی سمندر کی تہوں میں موجود گرم پانی کی لہروں کے باعث تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس رجحان نے عالمی سطح پر ماحولیاتی ماہرین اور سائنسدانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ اس عمل سے قطبی برف کے تودوں کا ڈھانچہ اندر سے کمزور ہو رہا ہے، جو آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے ساحلی شہروں اور آبادیوں کے لیے سمندر کی سطح میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں ایک بہت بڑا عذاب بن سکتا ہے۔
تحقیق کا پس منظر اور سمندر کی تہہ کا حرارتی نظام:
روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ انٹارکٹیکا جیسے انتہائی سرد خطے میں برف کا پگھلاؤ صرف گرمیوں کے موسم میں یا سورج کی براہ راست روشنی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تاہم، جدید ترین سمندری اور سائنسی تحقیقات نے اس نظریے کو یکسر بدل دیا ہے۔ سائنسدانوں نے جدید ترین آلات، زیرِ آب روبوٹس اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے یہ انکشاف کیا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں گرم پانی کے طاقتور اور غیر مرئی دھارے (Warm Water Currents) گردش کر رہے ہیں۔ یہ گرم دھارے براہ راست انٹارکٹیکا کے بڑے گلیشیرز کے ان حصوں سے ٹکرا رہے ہیں جو سمندر کے اندر تک ڈوبے ہوئے ہیں (جنہیں آئس شیلف یا برفانی شلف کہا جاتا ہے)۔
گرم پانی کے دھاروں کے اسباب اور میکزم:
انٹارکٹیکا کے اردگرد سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی حد شدت (Global Warming)، فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کا بڑھتا ہوا اخراج اور سمندری ہواؤں کے پیٹرن میں تبدیلی شامل ہیں۔ جب ہواؤں کا رُخ تبدیل ہوتا ہے تو وہ سمندر کے نچلے حصوں میں موجود نسبتاً گرم پانی کو قطبی براعظم کے ساحلوں اور گلیشیرز کی بنیادوں کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔
جب یہ گرم پانی گلیشیرز کے نچلے حصوں کے ساتھ مسلسل ٹکراتا ہے تو یہ تھرمل کٹاؤ (Thermal Erosion) کا باعث بنتا ہے۔ برف پانی کے مقابلے میں اگرچہ ٹھنڈی ہوتی ہے، لیکن طویل عرصے تک مسلسل گرم پانی کے رابطے میں رہنے کی وجہ سے گلیشیرز اندر ہی اندر پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس اندرونی پگھلاؤ کی وجہ سے برفانی تودوں کے نیچے بڑی بڑی غاریں اور سرنگیں بن جاتی ہیں، جن سے ان کا وزن سنبھالنے کا قدرتی توازن بگڑ جاتا ہے اور پورا گلیشیر ٹکڑے ہو کر سمندر میں گرنے کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔
عالمی موسمیات اور سمندر کی سطح پر اس کے اثرات:
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انٹارکٹیکا کے گلیشیرز اس طرح نیچے سے تیزی سے پگھلتے رہے تو اس کے دنیا بھر کے ماحولیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ گلیشیرز کے پگھلنے سے سمندروں میں پانی کی مقدار میں بے پناہ اضافہ ہو گا، جس سے دنیا بھر کی سمندری سطح (Sea Level Rise) بلند ہو جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سطح سمندر میں چند انچ یا فٹ کا اضافہ بھی دنیا کے کئی گنجان آباد ساحلی شہروں، جزائر اور نچلے علاقوں کو مکمل طور پر ڈوبنے کے خطے میں دھکیل سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف کروڑوں افراد کی آبادی کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ زرعی اراضی، پینے کے پانی کے ذخائر اور ساحلی ماحولیاتی نظام (Marine Ecosystem) کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
سائنسی برداری کی تشویش اور مستقبل کی لائحہ عمل:
یہ نئی تحقیق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہمارے سیارے کے موسمیاتی نظام کتنے پیچیدہ اور حساس ہیں۔ زمینی سطح پر نظر آنے والی تبدیلیوں کے علاوہ سمندروں کی گہرائیوں میں کیا کچھ بدل رہا ہے، اس کی مکمل تصویر اب سامنے آ رہی ہے۔ سائنسی ادارے اب حکومتوں اور عالمی تنظیموں پر زور دے رہے ہیں کہ کاربن کے اخراج کو فوری طور پر کنٹرول کیا جائے اور قطبی علاقوں کی مانیٹرنگ کے لیے فنڈنگ میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس خاموش اور خطرناک عمل کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بروقت حکمت عملی بنائی جا سکے۔ اگر اس صورتحال کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو آنے والی نسلوں کو ایک بہت بڑے ماحولیاتی اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔













منگل 6 اکتوبر 2026 

