دیگر صوبوں سے لوگ نہ نکل سکے، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبرپختونخوا تک محدود کیوں رہ گیا؟

Calender Icon جمعہ 9 اکتوبر 2026

پاکستان تحریک انصاف (PTI)کے اندرونی اختلافات، روابط کے فقدان، تنظیموں کے عدم تعاون، وفاق کا سخت رویہ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارٹی ورکرز سمیت قائدین کی لانگ مارچ میں عدم شرکت کی وجہ سے لانگ مارچ فی الحال خیبرپختونخوا تک محدود دکھائی دے رہا ہے، جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے اسلام آباد جانے کی دھمکیاں بدستور دی جارہی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب متعدد احتجاجی سرگرمیاں اور لانگ مارچ کیے گئے، تاہم اسلام آباد پہنچ کر علی امین گنڈاپور کی ورکرز سے علیحدگی اور غائب ہونے کے باعث ان پر شک بڑھ گیا، اور ان پر وفاق اور اداروں سے پس پردہ ملنے کی الزامات کے باعث بالآخر انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ پارٹی کے اندر بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس تجربے کے بعد موجودہ قیادت اسلام آباد کی جانب براہ راست مارچ کرنے کے معاملے میں زیادہ محتاط ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے مطابق نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے وقت عمران خان کو تین نام بھیجے گئے تھے۔ ان میں دو ایسے نام شامل تھے جنہیں پارٹی کے اندر زیادہ مضبوط حمایت حاصل تھی، تاہم عمران خان ان دونوں شخصیات کو ذاتی طور پر جانتے تھے، جبکہ تیسرا نام سہیل آفریدی کا تھا، جن سے عمران خان اس وقت واقف نہیں تھے۔ محمود خان کے مطابق سہیل آفریدی کی سفارش مراد سعید کی جانب سے بشریٰ بی بی کی بہن کے ذریعے عمران خان تک پہنچائی گئی۔

سہیل آفریدی پر عمران خان کی رہائی کے لیے عملی قدم اٹھانے کا دباؤ

سہیل آفریدی سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور سیاسی مزاحمت کریں گے، تاہم تقریباً نو ماہ گزرنے کے باوجود اسلام آباد کی جانب کوئی بڑا مارچ نہ ہونے پر پارٹی کے اندر ان پر دباؤ بڑھتا گیا۔ پارٹی کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا کہ اگر سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا فیصلہ اب تک کیوں نہیں کیا۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں سہیل آفریدی نے بالآخر 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا، تاہم اس اعلان پر بھی پارٹی کے اندر یہ سوال اٹھایا گیا کہ مارچ کے لیے اتنی تاخیر کیوں کی گئی۔

مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی لانگ مارچ، 40 لاکھ کا دعویٰ، لیکن سہیل آفریدی کے قافلے میں ورکرز کی تعداد کم کیوں ہورہی ہے؟

وفاقی اقدامات اور پارٹی کے اندر اختلافات نے مشکلات بڑھا دیں

مارچ کی تاریخ قریب آتے ہی وفاقی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات شروع کر دیے گئے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے درمیان راستوں کی بندش، پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے کنٹینرز کی تنصیب، کابینہ ارکان کے خلاف کارروائیاں، گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات پر بحث، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پشاور کا دورہ اور گورنر کی جانب سے سیکیورٹی اجلاس جیسے اقدامات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔

ذرائع کے مطابق ان اقدامات کے باعث سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی جانب بڑھنے کے ممکنہ ردعمل کے حوالے سے خدشات کا سامنا رہا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے خاطر خواہ سرگرمی نظر نہیں آئی۔ سہیل آفریدی کی جانب سے پنجاب اور سندھ میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں، تاہم وہاں سے متوقع ردعمل سامنے نہیں آیا، پنجاب اور سندھ کے قائدین اور ورکرز صرف سوشل میڈیا کی حد تک لانگ مارچ میں شریک ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے اندر بھی سہیل آفریدی کی مخالفت میں دو مضبوط گروپس موجود ہیں۔ ایک گروپ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حامی ارکان پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرے گروپ میں وہ ارکان شامل ہیں جنہیں پہلے علی امین گنڈاپور اور بعد میں سہیل آفریدی نے کابینہ میں جگہ نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق دونوں گروپس سہیل آفریدی کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے۔ حتیٰ کہ دونوں گروپس نے یہ بھی طے کر رکھا ہے کہ اگر سہیل آفریدی وزارت اعلیٰ سے الگ ہوتے ہیں تو ان کی جگہ کس امیدوار کو آگے لایا جائے گا۔

4 اکتوبر کا مارچ، پنجاب سے محدود شرکت

4 اکتوبر کو جب لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو پنجاب سے متوقع بڑی تعداد میں کارکن شریک نہیں ہوئے۔ میانوالی سے کارکنوں پر مشتمل ایک ہائی ایس اور فیصل آباد سے چند افراد قافلے کا حصہ بنے۔

قافلہ لکی مروت سے کرک اور پھر لاچی پہنچا تو کرک کے کارکن واپس چلے گئے۔ پشاور کے علاقے متنی پہنچنے تک قافلے میں شریک دیگر اضلاع کے کارکنوں کی تعداد بھی کم ہوتی گئی، جبکہ ضلع خیبر کی جانب روانگی کے وقت کوہاٹ سے آنے والے کارکن بھی واپس چلے گئے۔

متنی میں وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے عمار علی نے بتایا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے سیاسی سرگرمیوں کا علم ہونے پر کارکنوں کی گرفتاری کا خدشہ رہتا ہے، اسی لیے انہوں نے پنجاب میں احتجاج کرنے کے بجائے لکی مروت پہنچ کر لانگ مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

ان کے مطابق پورے پنجاب سے اس وقت تقریباً 20 سے 22 افراد ہی قافلے کا حصہ ہیں، جن میں چار دوستوں کے علاوہ میانوالی سے آنے والی ایک گاڑی بھی شامل ہے۔

عمار علی کا کہنا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ خیبرپختونخوا سے ملحقہ پنجاب کے اضلاع، خصوصاً اٹک اور میانوالی جبکہ جنوبی پنجاب سے ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان سے بھی بڑی تعداد میں کارکن لانگ مارچ میں شامل ہوں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

یوں عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کیا گیا یہ لانگ مارچ بظاہر ابھی تک خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور کارکنوں کی سرگرمی تک محدود ہے، جبکہ پنجاب اور دیگر صوبوں سے مطلوبہ سیاسی و عوامی حمایت نہ ملنے کے باعث اسلام آباد تک اس مارچ کو لے جانے کا منصوبہ اب بھی ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔