خیبرپختونخوا حکومت معطل، 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دیدی گئی، وفاقی حکمنامہ

Calender Icon اتوار 11 اکتوبر 2026

خیبرپختونخوا کی حکومت صوبائی کی معطلی کے بعد خیبرپختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دیدی گئی۔وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ، محسن نقوی اور ثمر ہارون بلور نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئے صوبائی سیٹ اَپ کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری حکمنامہ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امورانجام دیں گے، گورنر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل کریں گے۔

طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامرعبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر ارکان ہوں گے، ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی،عامر جاوید،ڈاکٹر ایم ارشاد مشاورتی کونسل میں شامل ہیں۔ کفایت اللہ، طیب قریشی،عثمان سیف اللہ خان،آصف رفیق بھی ارکان مقرر ہوگئے۔ ثنا اللہ ایڈووکیٹ خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل ہوں گے۔

وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا طالبان کے ساتھ ناپاک اتحادہے، کےپی میں توکچھ تھانے بھی طالبان کے حوالےکردیئے گئے، کابینہ ارکان کی رائےتھی پی ٹی آئی حکومت کادہشتگردوں سےاتحادہے۔ دہشتگردوں اورپی ٹی آئی حکومت کے درمیان پاورشیئرنگ فارمولہ بنتاجارہاتھا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں بتایا گیا خیبرپختونخوا دہشتگردی سے کتنا متاثر ہے، پی ٹی آئی حکومتوں نے چند اضلاع کو آؤٹ سورس کررکھا تھا، یہ لوگ صوبے کو تباہی کی طرف دھکیل رہے تھے، دھماکے کے زخمیوں نے کہا یہ پتا نہیں کیوں دہشتگردوں کو فری ہینڈ دیئےہوئے ہیں۔ جورپورٹس پیش کی گئیں ان میں خوفناک صورتحال ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

مزید پڑھیں:وفاق نے گورنر پختونخوا کو فوج تعیناتی کا اختیار دیدیا، وزیرقانون اعظم تارڑ

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت گورنر کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکتی ہے، گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کے تفویض کردہ اختیارات اور فرائض انجام دے سکیں گے، خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا مقرر کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ،صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری عہدے چھوڑ دیں گے۔