لائبہ خودکشی کیس میں دل دہلا دینے والے انکشافات

Calender Icon پیر 12 اکتوبر 2026

تعلیمی و سماجی حلقوں کو ہلا کر رکھ دینے والے لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں اسلام آباد پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے دوران سنسنی خیز اور لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق مرکزی ملزم نے طالبہ کو بلیک میل اور دھوکا دینے کے لیے ارٹافیشل انٹیلی جنس ابزارچیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کا ماہرانہ استعمال کیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس ذرائع کی جانب سے مکمل کی گئی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار مرکزی ملزم نعمان سال 2022 تک محکمہ اینٹی کرپشن میں 15 سال ملازمت کر چکا تھا جہاں سے مسلسل غیر حاضری پر اسے برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ مختلف انشورنس کمپنیوں میں بطور مینیجر کام کرتا رہا اور سال 2025 میں اس نے اسلام آباد کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں واقع ایک انشورنس کمپنی جوائن کی۔ ملزم کا لائبہ سے پہلا رابطہ مارچ 2023 میں اس وقت ہوا جب طالبہ نے انٹرن شپ کے لیے درخواست دی۔ لائبہ ٹیوشن پڑھانے کے باعث دفتر جوائن نہ کر سکی، تاہم بعد میں ملزم نے لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو ایک ٹک شاپ ایڈورٹائزنگ کا کام سونپ دیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ عائزہ نامی لڑکی کے امریکی مقیم بھائی سے ویزہ کے سلسلے میں مدد مانگے جانے پر ملزم نعمان کی نیت خراب ہوئی۔ اس نے مصنوعی ذہانت کے سمارٹ ٹول ‘چیٹ جی پی ٹی’ کا سہارا لیتے ہوئے عائزہ اور اس کے بھائی کے متوازی فرضی کردار تخلیق کیے اور ایک نیا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا کر لائبہ سے گفتگو شروع کر دی۔ ملزم نے AI کی مدد سے ویزہ پراسیسنگ اور قانونی دستاویزات کا ایسا ڈرافٹ تیار کیا جس سے لائبہ کو ذرا بھی شک نہ ہوا، تاہم امریکی سفارت خانے کے انٹرویو کی تاریخیں بار بار بدلنے پر لائبہ نے کاغذات کی خود تصدیق کی تو وہ مکمل طور پر جعلی نکلے۔

تحقیقات میں مزید معلوم ہوا ہے کہ اس فراڈ کے دوران لائبہ نے اپنے والد کا 21 لاکھ روپے کا پلاٹ بنوا کر رقم اور اپنی سوتیلی ماں کے قیمتی زیورات ملزم نعمان کے حوالے کر دیے تھے۔ جب جعل سازی کھلی تو لائبہ نے زیورات کی واپسی پر زور دیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کا سامنا کر سکے، لیکن ملزم نے اسے نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور ہر قسم کا رابطہ منقطع کر لیا، جس سے دل برداشتہ ہو کر مایوسی کے عالم میں طالبہ نے خودکشی جیسا ہولناک قدم اٹھایا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم اس تکنیک سے کئی دیگر خواتین کو بھی ٹھگ چکا ہے، جبکہ گرفتاری سے قبل اس نے فون کا پورا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا تھا جسے اب فارنزک لیبارٹری کی مدد سے ڈیجیٹل ڈیوائس سے ریکور کر کے مزید حقائق سامنے لائے جا رہے ہیں۔