پائیدار مستقبل کیلئے سائنسی تحقیق، جدت اور عالمی تعاون ناگزیر ہے، شاہد اقبال بلوچ

Calender Icon منگل 13 اکتوبر 2026

موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ضروری ہے، وفاقی سیکریٹری

اسلام آباد: وفاقی سیکریٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے کہا ہے کہ پائیدار مستقبل کے لیے سائنسی تحقیق، جدت اور عالمی تعاون ناگزیر ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور غذائی عدم تحفظ جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

پائیدار مستقبل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد اقبال بلوچ نے کہا کہ سائنسی تعلیم کے فروغ، نوجوان محققین کی معاونت اور تحقیقی نتائج کو عملی حل میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی حکمت عملیوں کی بنیاد سائنسی شواہد پر ہونی چاہیے تاکہ دستیاب وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کرتے ہوئے دیرپا ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور چین، ایران، ترکیہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو جدید سائنسی علم اور ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی فراہم کرنا ضروری ہے، جبکہ علم، مہارت اور وسائل کے تبادلے سے مشترکہ عالمی مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس پائیدار مستقبل کے لیے عملی سفارشات مرتب کرنے اور عالمی شراکت داریوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کانفرنس پائیدار ترقی کے لیے سائنس کی بین الاقوامی دہائی کے مقاصد کے حصول کی جانب بھی اہم پیش رفت ہے۔

مزید پڑھیں:سونا مزید مہنگا ہوگیا، فی تولہ قیمت کہاں تک پہنچ گئی؟

شاہد اقبال بلوچ نے کانفرنس کے انعقاد پر کامسیٹس، اے این ایس او اور ٹی ڈبلیو اے ایس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی تعاون، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے پائیدار ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔