اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پالیسی کے لیے وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت سے مذاکرات کی متعدد کوششیں کیں۔
تاہم وزیراعلیٰ انسداد دہشت گردی کی مربوط پالیسی پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے مطابق صوبے میں حکمرانی کا نظام مفلوج اور امن و امان کی صورت حال خراب ہو چکی تھی، جبکہ سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا۔
غیر ملکی نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا مقصد سیاسی سرگرمیاں روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف متحدہ اور متفقہ حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔ پی ٹی آئی اپنا مارچ جاری رکھنے اور دیگر سیاسی مطالبات پیش کرنے میں آزاد تھی، لیکن دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی پر اتفاق ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں؛ ایک طرف وفاقی حکومت افغانستان سے سفارتی رابطوں کے ذریعے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ ان کے بقول صوبائی حکومت کا مؤقف مختلف تھا۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن یہ وسائل انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کو مؤثر بنانے، سیف سٹی کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے اور پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور صوبے کے عوام طویل عرصے سے اس کے سنگین اثرات برداشت کر رہے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ خصوصاً جنوبی اضلاع میں دہشت گرد غیر رسمی طور پر انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنے ہوئے تھے اور صوبائی حکومت قانون کے مطابق ان سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان مذاکرات کے دوران انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر معاہدے کے لیے اتفاق بھی ہو گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ قومی ایکشن پلان اور اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کی موجودگی کے باوجود صوبائی حکومت ان کے اجلاسوں سے گریزاں کیوں رہی؟
وفاقی وزیر نے مزید الزام لگایا کہ کان کنی، معدنیات، لکڑی، تمباکو اور قیمتی پتھروں کی تجارت میں سرحد پار اسمگلنگ جاری رہی اور ان سرگرمیوں میں دہشت گردوں کو مبینہ سہولت فراہم کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت اور بنیادی سرکاری خدمات کے شعبوں میں بھی خاطر خواہ اصلاحات نہیں ہوئیں۔ ان کے بقول طالبان کا پیش کردہ نظریہ حقیقی اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس میں خواتین کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کی نفی کی جاتی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں کوہاٹ کا دورہ کیا، جہاں دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والوں سے ملاقات اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ ان کے مطابق متاثرہ افراد شدید مشکلات کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام صوبے میں امن، تحفظ اور روزگار کے مواقع چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے ذریعے حالات بہتر ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے نئی مشاورتی کونسل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں قبائلی توازن اور صنفی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے، جبکہ نجی اور سرکاری شعبوں کے تجربہ کار افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیم دہشت گردی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے اور عوامی خدمت کے لیے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں:پونچھ سیکٹر، ایل او سی پر بھارتی بارودی سرنگ پھٹنے سے 4 نوجوان شہید
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ دہشت گردی، جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کے مبینہ گٹھ جوڑ کا خاتمہ کرکے صوبے میں امن و امان بحال کیا جائے۔













منگل 13 اکتوبر 2026 

