نامناسب تعلق کا اعتراف کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کے فوجی سربراہ عہدے سے مستعفی

Calender Icon جمعہ 23 اکتوبر 2026

دنیا بھر میں فوجی قیادت کے عہدے پر فائز افراد سے پیشہ ورانہ اصولوں اور ضابطوں کی پابندی کی توقع کی جاتی ہے۔ نیوزی لینڈ(New Zealand) میں بھی فوج کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز افسر نے ماضی کے ایک ایسے معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے جسے انہوں نے دورانِ کمانڈ ظاہر نہیں کیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج کے سربراہ ٹونی ڈیوس نے جمعے کو ایک تعلق ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج کے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹونی ڈیوس نے اپنے استعفے سے وزیر دفاع پال گولڈ اسمتھ کو آگاہ کر دیا ہے۔ ڈیوس نے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور ماضی میں کیے گئے غلط فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:لاہور: ڈیفنس فیز 4 میں ٹریفک حادثہ، تین نوجوان جاں بحق

ٹونی ڈیوس نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے ماضی کے فیصلے دفاعی افواج کی اقدار کے خلاف تھے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ اس غیر مناسب تعلق سے متعلق تھا جو انہوں نے ایک یونٹ کی کمان سنبھالتے ہوئے قائم کیا تھا۔ انہوں نے اس تعلق کو مناسب وقت پر ظاہر نہ کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

نیوزی لینڈ کے وزیر دفاع پال گولڈ اسمتھ نے کہا کہ ان کے خیال میں ان حالات میں ڈیوس کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔ ان کے مطابق استعفے کی وجوہات دیانت داری سے متعلق ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ڈیوس نے پہلے آگاہ نہیں کیا تھا۔

گولڈ اسمتھ نے مزید کہا کہ وہ گورنر جنرل کو ٹونی ڈیوس کا استعفیٰ منظور کرنے کی سفارش کریں گے۔ دفاعی افواج کے بیان کے مطابق، نائب سربراہ میٹ ولیمز قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

ٹونی ڈیوس نے 1984 میں نیوزی لینڈ کی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں 2024 میں دفاعی افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، رائٹرز کی رپورٹ میں غیر مناسب تعلق کی نوعیت یا اس میں شامل دوسرے فرد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔